36516- عن علي قال: انطلقت أنا والنبي صلى الله عليه وسلم حتى أتينا الكعبة فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: اجلس - وصعد على منكبي، فذهبت لأنهض به فرأى مني ضعفا فنزل وجلس لي نبي الله صلى الله عليه وسلم وقال: اصعد على منكبي، فصعدت على منكبيه، فنهض بي فإنه يخيل إلي أني لو شئت لنلت أفق السماء حتى صعدت على البيت وعليه تمثال صفر أو نحاس فجعلت أزاوله عن يمينه وعن شماله وبين يديه ومن خلفه، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: هيه هيه! وأنا أعالجه حتى استمكنت منه، قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقذف به، فقذفت به فتكسر كما تتكسر القوارير، ثم نزلت فانطلقت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم نستبق حتى توارينا بالبيوت خشية أن يلقانا أحد من الناس فلم يرفع عليها بعد. "ش، ع، حم" وابن جرير، "ك" وصححه، "خط".
٣٦٥١٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کی طرف چل پڑے جب ہم کعبہ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : بیٹھ جاؤ پھر آپ میرے کاندھے پر چڑھ گئے میں آپ کو لے کر اٹھنے لگا لیکن آپ نے مجھ میں ضعف دیکھا اور نیچے اتر آئے اور خود بیٹھ گئے فرمایا : میرے کاندھوں پر چڑھ جاؤ۔ میں آپ کے کاندھوں پر چڑھ گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے لے کر اٹھ کھڑے ہوئے مجھے خیال گزرا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کنارے چھو لیتا حتیٰ کہ میں بیت اللہ پر چڑھ گیا بیت اللہ پر تانبے یا پیتل کی بنی ہوئی ایک مورتی رکھی تھی میں اسے دائیں بائیں اور آگے پیچھے گھوم گھوم کر دیکھنے لگا حتیٰ کہ میں نے اس پر اپنی گرفت مضبوط کرلی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے اٹھالو پھر فرمایا : اسے پٹخ دو میں نے اسے دے مارا اور وہ شیشے کی طرح چکنا چور ہوگئی پھر میں نیچے اتر آیا میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھاگنے لگے حتیٰ کہ ہم گھروں کی اوٹ میں آگئے تاکہ ہمیں کوئی پکڑ نہ لے چنانچہ اس کے بعد بیت اللہ پر کوئی نہیں چڑھا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو یعلی واحمد بن حنبل وابن جریر والحاکم وصححہ والخطیب)