36517- "ايضا" عن عبد الله بن بكر الغنوي عن حكيم ابن جبير عن الحسن بن سعد مولى علي عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أراد أن يغزو غزاة له فدعا جعفرا فأمره أن يتخلف على المدينة فقال: لا أتخلف بعدك يا رسول الله أبدا، فدعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فعزم علي لما تخلفت قبل أن أتكلم فبكيت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يبكيك يا علي؟ قلت: يا رسول الله! يبكيني خصال غير واحدة! تقول قريش غدا: ما أسرع ما تخلف عن ابن عمه وخذله، ويبكيني خصلة أخرى كنت أريد أن أتعرض للجهاد في سبيل الله لأن الله يقول: {وَلا يَطَأُونَ مَوْطِئاً يُغِيظُ الْكُفَّارَ} إلى آخر الآية، فكنت أريد أن أتعرض للأجر، ويبكيني خصلة أخرى كنت أريد أن أتعرض لفضل الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما قولك: تقول قريش: ما أسرع ما تخلف عن ابن عمه وخذله، فإن لك بي أسوة قالوا؛ ساحر وكاهن وكذاب، وأما قولك: أتعرض للأجر من الله، أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي، وأما قولك: أتعرض لفضل الله، فهذان بهاران من فلفل جاءنا من اليمن فبعه واستمتع به أنت وفاطمة حتى يؤتيكم الله من فضله، فإن المدينة لا تصلح إلا بي أو بك. "البزار وقال: لا يحفظ عن علي إلا بهذا الإسناد الضعيف، وأبو بكر العاقولي في فوائده، "ك" وقال: صحيح الإسناد، وابن مردويه، وقال ابن حجر في الأطراف: بل هو شبه الموضوع، وعبد الله بن بكير وشيخه ضعيفان، وقال في تجريد زوائد البزار: حكيم بن جبير متروك، قال: والبهار ثلاثمائة رطل بالبغدادي"
٣٦٥١٧۔۔۔ ” ایضاً “ عبداللہ بن بکر غنوی حکیم بن جبیر مولائے علی حسن بن سعد حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غزوہ پر جانے کا ارادہ کیا اور آپ نے جعفر (رض) کو اپنے پاس بلایا اور انھیں حکم دیا کہ وہ مدینہ میں نائب کی حیثیت سے رہیں انھوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میں آپ کے بعد مدینہ میں ہرگز نہیں رہ سکتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پاس بلایا اور مجھے نائب مقرر کرنے کا عزم ظاہر کیا میں بات کرنے سے پہلے رو دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے بہت سی خصلتیں رلا رہی ہیں۔ کل قریش کہیں گے : تم اپنے چچا زاد بھائی کو پیچھے کیوں چھوڑ آئے وہ اور اسے کیوں رسوا کیا ہے مجھے ایک اور چیز بھی رلا رہی ہے میرا ارادہ تھا کہ میں جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تعرض کروں چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے ” لایطؤن موطأ یغیظ الکفار “ الآیۃ ارادہ تھا کہ میں اجر وثواب کیلئے پیش رفت کروں مجھے ایک اور چیز بھی رلا رہی ہے میرا ارادہ تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل لینے کے لیے آگے بڑھوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہا تمہارا یہ کہنا کہ قریش کہیں گے : تم اپنے چچا زاد بھائی کو اپنے پیچھے کیوں چھوڑ آئے ہو اور اسے رسواء کیا : بلاشبہ اس میں تمہارے لیے ایک نمونہ ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ جادو گر نجومی اور جھوٹا ہے رہا تمہارا یہ کہنا کہ میں اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب کیلئے پیش رفت کروں سو تم راضی نہیں ہو کہ تمہارا میرے ہاں وہی مقام ہو جو ہارون کا موسیٰ کے ہاں تھا۔ رہا تمہارا یہ کہنا کہ میں بھی اللہ کے فضل (مال) کو لینے کیلئے آگے بڑھوں سو یہ رہے دو بہار (ایک بہار برابر ہے تین سو رطل بغدادی کے) کالی مرچ کے جو ہمارے پاس یمن سے آئے ہیں انھیں بیچو اور ان سے نفع اٹھاؤ تم بھی اور فاطمہ (رض) بھی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل مال تمہیں عطا کر دے بلاشبہ مدینہ یا میرے شایان شان ہے یا تمہارے۔ (رواہ البزار وقال لایحفظ عن علی الا بھذا لاسناد وابن مردویہ وقال ابن حجر فی الاطراق بل ھو شبہ الموضوع وعبداللہ بن بکیر وشیحہ ضعیفان وقال۔ فی تجرید زوائد البراز و حکیم بن جبیر متروک قال : والبھار ثلاثمائۃ رطل بالبغدادی)