36518- عن علي قال: لما كان يوم الحديبية خرج إلينا ناس من المشركين فيهم سهيل بن عمرو وأناس من رؤساء المشركين فقالوا: يا رسول الله! خرج إليك ناس من أبنائنا وإخواننا وأرقائنا وليس بهم فقه في الدين وإنما خرجوا فرارا من أموالنا وضياعنا فارددهم إلينا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا معشر قريش! لتنتهن أو ليبعثن الله عليكم من يضرب رقابكم بالسيف على الدين قد امتحن الله قلبه على الإيمان قالوا: من هو يا رسول الله؟ وقال له أبو بكر: من هو يا رسول الله؟ وقال عمر: من هو يا رسول الله؟ قال: هو خاصف النعل - وكان أعطى عليا نعله يخصفها - ثم قال علي: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار."ت وقال: حسن صحيح غريب2، وابن جرير وصححه، ض".
٣٦٥١٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر مشرکین میں سے کچھ لوگ ہمارے پاس آئے ان میں ایک سہیل بن عمرو اور کچھ مشرکین کے سردار بھی تھے کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہمارے بیٹوں بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے ہیں وہ دین میں کچھ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے وہ تو ہمارے اموال اور جائدادوں سے بھاگ کر آئے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جماعت قریش ! تم لوگ باز آجاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو مسلط کرے گا جو تلوار سے تمہاری گردنیں اڑائے گا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کا ایمان سے جانچ لیا ہے صحابہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ وہ کون ہے ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! وہ کون ہے ؟ عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! (رح) وہ کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ جوتے گانٹھنے والا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) کو گا ٹھننے کے لیے جوتا دے رکھا تھا پھر علی (رض) نے کہا : یا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا ہے جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لینا چاہیے (رواہ الترمذی وقال حسن صحیح غریب وابن جریر وصحہ والضیاء)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی ٧٦٨۔