36519- عن علي قال: لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة أتاه أناس من قريش فقالوا: يا محمد! إنا حلفاؤك وقومك وإنه لحق بك أرقائنا وليس لهم رغبة في الإسلام وإنهم فروا من العمل فارددهم علينا، فشاور أبا بكر في أمرهم فقال: صدقوا يا رسول الله! وقال لعمر: ما ترى؟ فقال مثل قول أبي بكر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معشر قريش! ليبعثن الله عليكم رجلا منكم امتحن الله قلبه للإيمان أن يضرب رقابكم على الدين، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول الله؟ قال: لا، قال عمر: أنا هو يا رسول الله؟ قال: لا ولكن خاصف النعل في المسجد - وقد كان ألقى نعله إلى علي يخصفها - ثم قال: أما! إني سمعته يقول: لا تكذبوا علي فإنه من كذب علي يلج النار."ش" وابن جرير، "ك"، ويحيى بن سعيد في إيضاح الإشكال.
٣٦٥١٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو آپ کے پاس قریش کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے یا محمد ! ہم آپ کے حلیف اور آپ کی قوم ہیں۔ چنانچہ ہمارے کچھ غلام تمہارے پاس آگئے ہیں انھیں اسلام میں کچھ رغبت نہیں ہے وہ تو ہمارے کام کاج سے بھاگ گئے ہیں لہٰذا آپ انھیں واپس کردیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے مشورہ کیا انھوں نے کہا ۔ یا رسول اللہ ! یہ لوگ سچ کہتے ہیں پھر آپ نے عمر (رض) سے مشورہ کیا : انھوں نے بھی حضرت ابوبکر (رض) جیسا مشورہ دیا : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جماعت قریش اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو مسلط کرے گا جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے جانچ لیا ہے وہ تمہاری گردنیں اڑائے گا ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ میں ہوں فرمایا : نہیں عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ وہ میں ہوں فرمایا : نہیں لیکن یہ وہ شخص ہے جو مسجد میں جوتے گانٹھ رہا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو اپنے جوتے گانٹھنے کے لیے دئیے ہوئے تھے پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : مجھ پر جھوٹ مت بولو چونکہ جس شخص نے مجھ پر جھوٹ بولا دوزخ میں داخل ہوگا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابن جریر والحاکم ویحیی بن سعید فی ایضاح الاشکال)