36520- عن علي قال: إنه قيل له: كيف ورثت ابن عمك دون عمك؟ فقال: جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بني عبد المطلب وهم رهط كلهم يأكل الجذعة ويشرب الفرق1 فصنع لهم مدا من طعام فأكلوا حتى شبعوا وبقي الطعام كما هو كأنه لم يمس أو لم يشرب فقال: يا بني عبد المطلب! إني بعثت إليكم خاصة وإلى الناس عامة وقد رأيتم من هذه اية ما رأيتم فأيكم يبايعني على أن يكون أخي وصاحبي ووارثي؛ فلم يقم إليه أحد فقمت إليه وكنت من أصغر القوم فقال: اجلس، ثم قال ثلاث مرات كل ذلك أقوم إليه فيقول لي: اجلس، حتى كان في الثالثة ضرب بيده على يدي، قال: فلذلك ورثت ابن عمي دون عمي. "حم" وابن جرير، "ض".
٣٦٥٢٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا : تم اپنے چچا زاد بھائی کے وارث کس طرح بنتے ہو اور تمہارے چچا وارث نہیں بن رہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ بنی عبد المطلب کو جمع کیا وہ سب بکری کا بچہ کھا رہے تھے اور پانی پی رہے تھے ان کے لیے کھانا پکایا گیا اور انھوں نے سیر ہو کر کھایا اور مشکیزے سے پانی پیا حتیٰ کہ کھانا اور پانی جوں کا توں باقی بچا رہا گویا انھوں نے نہ کھانا کھایا ہو اور نہ ہی پانی پیا ہو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی عبد المطلب مجھے خصوصیت کے ساتھ تمہاری طرف اور نامعلوم لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے تم یہ آیت دیکھ رہے ہو تم میں سے کون میرے ہاتھ پر بیعت کرے گا کہ وہ میرا بھائی میرا دوست اور میرا وارث ہوگا۔ آپ کی طرف کوئی نہ اٹھا میں ہی آپ کی طرف اٹھا میں حاضرین میں سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ آپ نے پھر تین بار یہی فرمایا : ہر بار میں کھڑا ہوا اور مجھ سے فرمایا : بیٹھ جاؤ حتیٰ کہ تیسری بار بیعت کے لیے آپ نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا اور حضرت علی (رض) نے فرمایا : اسی لیے آپ کا وارث میں ہوں میرا چچا نہیں ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر واضیاء)