hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36631

.

كنز العمال

36631
Kanz al-Ummal
36621- عن سعيد بن المسيب قال: إن أول من سل سيفا في الله الزبير ابن العوام، بينا هو ذات يوم قائل إذ سمع نغمة: قتل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرج متجردا بالسيف صلتا، فلقيه النبي صلى الله عليه وسلم كنة كنة1 فقال: ما لك يا زبير؟ قال: سمعت أنك قتلت، قال: فما أردت أن تصنع؟ قال: أردت والله أستعرض أهل مكة! فدعا له النبي صلى الله عليه وسلم بخير، وفي ذلك يقول الأسدي: هذاك أول سيف سل في غضب. ... لله سيف الزبير المنتضي أنفا حمية سبقت من فضل نجدته. ... قد يحبس النجدات المحبس الأرفا "كر".
٣٦٦٢١۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب سے پہلے حضرت زبیر بن عوام (رض) نے تلوار سونتی ہے چنانچہ زبیر (رض) ایک رات سو رہے تھے کہ اچانک آواز سنی ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کر دئیے گئے ہیں “ زبیر (رض) ننگی تلوار لے کر باہر نکل آئے اور دیوار کے چھجے تلے انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مل گئے اور فرمایا : اے زبیر تمہیں کیا ہوا ؟ عرض کیا ؟ عرض کیا : میں نے سنا ہے کہ آپ قتل کر دئیے گئے ہیں فرمایا : تم نے کیا کرنے کا ارادہ کرلیا ہے عرض کیا : میں نے ارادہ کیا ہے کہ اہل مکہ سے دو چار ہاتھ کھیل لوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) کے لیے دعائے خیر کی چنانچہ اسدی نے اسی کے متعلق یہ اشعار کہے ہیں :
ھذاک آول سیف سل فی ضغب للہ سیف الزبیر المنضی انقا
حمیۃ سبقت من فضل بخدتہ قدیضس البخدات المجس الارفا
یہ پہلی تلوار جو اللہ تعالیٰ کے لیے غصہ میں سونتی گئی جو کہ زبیر کی سونت ہوئی تلوار ہے یہ وہ نسبت ہے جو اس کی بہادری پر سبقت لے گئی کبھی کبھی بہادروں کو نرمی روک دیتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)