36748- عن عبد الله بن أبي أوفى قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما على أصحابه فقال: يا أصحاب محمد! لقد أراني الله الليلة منازلكم في الجنة وقدر منازلكم من منزلي، ثم أقبل على علي فقال: يا علي! ألا ترضى أن تكون منزلك مقابل منزلي في الجنة؟ فقال: بلى بأبي أنت وأمي يا رسول الله! قال: فإن منزلك في الجنة مقابل منزلي، ثم أقبل على أبي بكر فقال: إني لأعرف رجلا باسمه واسم أبيه وأمه إذا أتى باب الجنة لم يبق باب من أبوابها ولا غرفة من غرفها إلا قال له: مرحبا مرحبا! فقال له سلمان: إن هذا لغير خائف يا رسول
الله! فقال: هو أبو بكر بن أبي قحافة، ثم أقبل على عمر فقال: يا عمر! لقد رأيت في الجنة قصرا من درة بيضاء شرفه من لؤلؤ أبيض مشيد بالياقوت فأعجبني حسنه فقلت: يا رضوان! لمن هذا القصر؟ فقال: لفتى من قريش، فظننته لي فذهبت لأدخله فقال لي رضوان: يا محمد! هذا لعمر بن الخطاب، فلولا غيرتك يا أبا حفص لدخلته، فبكى عمر ثم قال: أعليك أغار يا رسول الله؟ ثم أقبل على عثمان فقال: يا عثمان! إن لكل نبي رفيقا في الجنة وأنت رفيقي في الجنة، ثم أقبل على طلحة والزبير فقال: يا طلحة! ويا زبير! إن لكل نبي حواري وأنتما حواري، ثم أقبل على عبد الرحمن بن عوف فقال: يا عبد الرحمن لقد بطؤ بك عني حتى خشيت أن تكون قد هلكت ثم جئت وقد عرقت عرقا شديدا، فقلت لك: ما بطأ بك عني لقد خشيت أن تكون قد هلكت، فقلت: يا رسول الله! كثرة مالي، ما زلت موقوفا محتبسا أسأل عن مالي: من أين اكتسبته وفيما أنفقته؟ فبكى عبد الرحمن وقال: يا رسول الله! هذه مائة راحلة جاءتني الليلة عليها من تجارة مصر فأشهدك أنها بين أرامل أهل المدينة وأيتامهم! لعل الله يخفف عني ذلك اليوم. "كر".
٣٦٧٤٨۔۔۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : اے اصحاب محمد ! آج رات اللہ تعالیٰ نے مجھے جنت میں تمہارے ٹھکانے دکھائے ہیں اور یہ بھی دکھایا ہے کہ میرے ٹھکانے کے مقابلہ میں تمہارے ٹھکانوں کا کیا انداز ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے علی کیا تم راضی نہیں ہو کہ جنت میں تمہارا ٹھکانا میرے ٹھکانے کے بالمقابل ہو ؟ عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں کیوں راضی نہیں ہوں پھر آپ ۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میں ایک شخص کو اس کے نام سے اس کے ماں باپ کے نام سے پہچانتا ہوں جب وہ جنت کے دروازے پر آئے گا تو جنت کے دروازوں میں سے کوئی دروازہ اور جنت کے بالا خانوں میں سے کوئی بالاخانہ نہیں رہے گا مگر ہر ایک سے آواز آئے گی مرحبا مرحبا حضرت سلمان (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ شخص تو خوفزدہ نہیں ہوگا۔ فرمایا : وہ ابوبکر بن ابی قحافہ ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : میں نے جنت میں ایک عظیم الشان محل دیکھا ہے جو سفید موتی سے بنا ہوا ہے اس کا گنبد بھی سفید موتی کا ہے اور اس پر یاقوت جڑے ہوئے ہیں مجھے اس کی خوبصورتی تعجب خیز معلوم ہوئی میں نے کہا : اے رضوان یہ محل کس کا ہے ؟ اس نے جواب دیا : یہ قریش کے ایک نوجوان کا ہے میں سمجھا وہ میرا ہے میں اس میں داخل ہونے لگا رضوان نے مجھے کہا : اے محمد ! یہ عمر بن خطاب کا ہے اے ابو حفص ! اگر تمہاری غیرت کا پاس نہ ہوتا تو میں اس میں ضرور داخل ہوتا حضرت عمر (رض) روپڑے اور پھر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ پر غیرت کروں گا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عثمان (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے عثمان (رض) ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوتا ہے اور تو جنت میں میرا رفیق ہوگا پھر آپ طلحہ و زبیر (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے طلحہ ! اے زبیر ! ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور تم دونوں میرے حواری ہو پھر عبد الرحمن بن عوف (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے عبد الرحمن تم مجھ سے پیچھے رہ گئے مجھے خوف لاحق ہوا کہیں تم ہلاک تو نہیں ہوگئے ہو لیکن تم آہی گئے اور پسینہ میں شرابور تھے میں نے تم سے پوچھا : تمہیں کیوں تاخیر ہوئی میں تو سمجھا کہ تم ہلاک ہوگئے ہو تم نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! کثرت مال نے مجھے تاخیر میں رکھا تاہم میں اپنے مال کے متعلق حساب دینے میں لگاتار کھڑا رہا کہ یہ مال میں نے کہاں سے کمایا اور اسے کہاں خرچ کیا ؟ حضرت عبد الرحمن (رض) رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ سو اونٹ کھڑے ہیں جو میرے پاس مصر کی تجارت سے واپس لوٹے ہیں میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ سب اہل مدینہ کی بیواؤں اور یتیموں پر صدقہ ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھ پر تخفیف فرمائے۔ (رواہ ابن عساکر)