36755- "مسند أسامة" اجتمع علي وجعفر وزيد بن حارثة فقال جعفر: أنا أحبكم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال علي: أنا أحبكم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال زيد: أنا أحبكم إلى رسول الله، فقالوا: انطلقوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى نسأله، فجاؤوا يستأذنونه، فقال: اخرج فانظر من هؤلاء؟ فقلت: هذا جعفر وعلي وزيد ما أقول أبي، قال: ائذن لهم، فدخلوا فقالوا: يا رسول الله! من أحب إليك؟ قال: فاطمة، قالوا: نسألك عن الرجال، قال: أما أنت يا جعفر! فأشبه خلقك خلقي وأشبه خلقك خلقي وأنت مني وشجرتي، وأما أنت يا علي! فختني وأبو ولدي وأنا منك وأنت مني، وأما أنت يا زيد! فمولاي ومني وإلي وأحب القوم إلي."حم، طب، ك، ض".
٣٦٧٥٥۔۔۔ ” مسند اسامہ “ اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) حضرت جعفر اور حضرت زید بن حارثہ (رض) اکٹھے ہوئے جعفر (رض) بولے : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب ہوں حضرت علی (رض) نے کہا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب ہوں زید (رض) نے بھی دعویٰ کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ سب نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلو ان سے پوچھ لو چنانچہ یہ صحابہ (رض) آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اجازے طلب کی آپ نے ارشاد فرمایا : اے اسامہ ! باہر جاؤ اور دیکھو یہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے عرض کیا : یہ جعفر علی اور زید ہیں میں نے نہیں کہا کہ میرے اباجان ہیں فرمایا : انھیں اجازت دو یہ حضرات صحابہ کرام (رض) اندر داخل ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ ارشاد فرمایا : فاطمہ (رض) مجھے زیادہ محبوب ہے عرض کیا : ہم آپ سے مردوں کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔ ارشاد فرمایا : اے جعفر رہی تمہاری بات سو تم خلقت و اخلاق میں میرے مشابہ ہو اور مجھ سے ہو میرے شجرہ میں سے ہو اے علی ! تم میرے داماد ہو اور میرے دو بچوں کے والد ہو میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے ہے۔ اور اے زید ! تم میرے آزاد کردہ غلام ہو تم مجھ سے ہو اور قوم میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔ (رواہ احمد بن حنبل والطبرانی والحاکم والضیاء)