36813- عن أسيد بن حضير قال: بينما هو يقرأ من الليل سورة البقرة وفرسه مربوط إذ جالت الفرس فسكت فسكنت ثم قرأ فجالت الفرس فسكت فسكنت ثم قرأ فجالت الفرس فسكت فسكنت فانصرف وان ابنه يحيى قريبا منه فأشفق أن تصيبه ، فلما اجتره رفع رأسه إلى السماء فإذا هي مثل الظلة فيها أمثال المصابيح عرجت إلى السماء حتى ما يراها ! فلما أصبح حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : اقرأ ابن الحضير ثلاث مرات ، فقال : تدري ما ذاك ؟ قال : لا يا رسول الله ! قال : تلك الملائكة دنت لصوتك ولو قرأت لاصبح الناس حتى ينظروا إليها لا تتوارى منهم (أبو عبيد في فضائله ، حم ، خ تعليقا ، ن ، ك وأبو نعيم في المعرفة ، ق في الدلائل).
٣٦٨١٣۔۔۔ حضرت اسید بن حضیر کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں رات کو سورت بقرہ تلاوت کررہا تھا جب کہ میرا گھوڑا ساتھ ہی باندھا ہوا تھا یکایک گھوڑا گھومنے لگا میں خاموش ہوا گھوڑا بھی سکون میں آگیا، پھر تلاوت شروع کی گھوڑا بھی گھومنے لگا میں خاموش ہوا گھوڑا بھی سکون میں آگیا میں نے پھر تلاوت شروع کی گھوڑا بھی گھومنے لگا میں خاموش ہوا گھوڑا بھی سکون میں آگیا۔ اسید بن حضیر (رض) تلاوت ختم کرکے کھڑے ہوگئے اور قریب ہی ان کا بیٹا یحییٰ تھا اسے دیکھا کہیں اسے کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔ جب چندان کچھ نہ نظر آیا تو انھوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی کیا دیکھتے ہیں کہ سائبان کی طرح کوئی چیز اوپر تنی ہوئی ہے اس میں چراغوں کی مانند کوئی چیزیں چمک رہی ہیں وہ سائبان آسمان کی طرف بلند ہوتا گیا، حتیٰ کہ دیکھائی نہ دینے لگا جب صبح ہوئی تو اسد (رض) کے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واقعہ بیان کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے تین بار فرمایا : اے ابن حضیر تلاوت کرتے رہو تمہیں معلوم ہے وہ کیا چیز تھی ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے نہیں معلوم ارشاد فرمایا : وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز سن کر تمہارے قریب ہوا چاہتے تھے اگر تم صبح تک تلاوت کرتے رہتے لوگ صبح اٹھتے فرشتوں کو ضرور دیکھتے حتیٰ کہ فرشتے ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہوتے۔ (رواہ ابو عبید فی فضائلہ واحمد بن حنبل والبخاری تعلیقا والنسائی والحاکم وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل)