37358- عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أنه بلغه أن عمر بن الخطاب قال لما توفي عثمان بن مظعون وفاة لم يقتل هبط من نفسي هبطة ضخمة فقلت: انظروا إلى هذا الذي كان أشدنا تخليا من الدنيا ثم مات ولم يقتل، فلم يزل عثمان بتلك المنزلة من نفسي حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: ويك! 1 إن خيارنا يموتون، ثم توفي أبو بكر فقلت: ويك! إن خيارنا يموتون، فرجع عثمان في نفسه إلى المنزلة التي كان بها قبل ذلك."ابن سعد وأبو عبيد في الغريب".
٣٧٣٥٧۔۔۔ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی روایت ہے کہ انھیں خبر پہنچی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون (رض) عہ کی وفات ہوئی تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : عثمان بن مظعون (رض) شہید نہیں ہوئے جس سے میرے دل سے ان کا مقام جاتا رہا میں نے کہا کہ اس شخص کو دیکھو وہ ہم سے زیادہ دنیا سے کنارہ کش رہتا تھا اور وہ اس حالت میں مرا کہ شہید نہیں ہوا میرے دل میں عثمان کے متعلق یہی خطرہ رہا یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی میں نے کہا : اے عمر ! تجھ پر افسوس ہے ہمارے بہترین لوگ مرتے ہیں شہید نہیں ہوتے پھر ابوبکر (رض) کی وفات ہوئی تو میں نے کہا : اے عمر ! تجھ پر افسوس ہے ہمارے بہترین لوگ مرتے ہیں اس کے بعد عثمان بن مظعون (رض) کا مقام میرے دل میں پہلے کی طرح جاگزیں ہوگیا۔ (رواہ ابن سعد وابو عبید فی العزیب)