37545 عن علي أن امرأة الوليد بن عقبة أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله ! إن الوليد يضربها ! قال : قولي له : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أجارني ، فلم تلبث إلا يسيرا حتى رجعت فقالت : ما زادني إلا ضربا ، فقطع النبي صلى الله عليه وسلم هدبة من ثوبه فدفعها إليها وقال : قولي له : هذه هدبة من ثوبه ، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أجارني ، فلم تلبث إلا يسيرا حتى رجعت فقالت : ما زادني إلا ضربا ، فرفع يديه وقال : اللهم ! عليك الوليد ! أثم بي مرتين أو ثلاثا (ش ومسدد ، عم ، ع وابن جرير وصححه) .
٣٧٥٤٥۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! ولید مجھے مارتا ہے۔ آپ نے فرمایا : اس سے کہہ دو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پناہ دی ہے چنانچہ تھوڑی دیر گزرنے پائی تھی کہ واپس لوٹ آئی اور بولی : اس نے تو مجھے اور زیادہ مارنا شروع کردیا ہے۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کپڑے سے ایک ٹکڑا کاٹا اور اس عورت کو دیا اور فرمایا : اس سے کہو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پناہ دی ہے اور یہ کپڑا انہی کے کپڑے کا ٹکڑا ہے تھوڑی دیر گزری تھی واپس لوٹ آئی اور کہنے لگی : ولید نے مجھے اور زیادہ مارا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولید کو بددعا دینے کے لیے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور فرمایا : یا اللہ ! ولید سے نمٹ لے اس نے میری معصیت کی ہے آپ نے دویا تین بار فرمایا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ومسدو عبداللہ بن احمد حنبل وابویعلی وابن جریر وصححہ)
فائدہ :۔۔۔ ولیدبن عقبہ بن ابی معیط (رض) نے معاویہ (رض) کے دور خلافت میں وفات پائی ہے حدیث سیاق وسباق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث بن عقبہ (رض) کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کی ہے خصوصا حدیث کا آخری جملہ جس میں بددعا کا ذکر ہے اس سے یہ بات اور بھی زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔