hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37953

.

كنز العمال

37953
Kanz al-Ummal
37941- عن أنس قال: أعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم من غنائم حنين الأقرع بن حابس مائة من الإبل وعيينة بن حصن مائة من الإبل، فقال ناس من الأنصار: يعطي رسول الله صلى الله عليه وسلم غنائمنا ناسا تقطر سيوفنا من دمائهم أو تقطر سيوفهم من دمائنا، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فأرسل إليهم فجاؤا فقال: "فيكم غيركم؟ " قالوا: لا إلا ابن أختنا، قال: " ابن أخت القوم منهم"، فقال: "قلتم كذا وكذا! أما ترضون أن يذهب الناس بالشاء والبعير وتذهبوا بمحمد إلى دياركم؟ " قالوا: بلى يا رسول الله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الناس دثار والأنصار شعار، الأنصار كرشي وعيبتي1، فلولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار. "ش".
٣٧٩٤١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ حنین کے اموال غنیمت میں سے سو اونٹ اقرع بن حابس کو دئیے اور سو اونٹ عیینہ بن حصن کو دئیے۔ انصار کے کچھ لوگوں نے آپس میں کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اموال غنیمت ایسے لوگوں کو دے رہے ہیں جن کے خون سے ہماری تلواریں ٹپک رہی ہیں یا ان کی تلواروں سے ہمارے خون ٹپک رے ہیں۔ یہ بات بنی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پیغام بھیج کر بلوایا وہ حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا کیا تم میں کوئی غیر تو نہیں ہے انھوں نے عرض کیا : نہیں، صرف ہمارا ایک بھانجا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی قوم کی بہن کا بیٹا بھی انہی میں شمار ہوتا ہے۔ پھر فرمایا :
کیا تم نے ایسا ایسا کہا تھا، کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ اور لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے ساتھ لے کر جائیں اور تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ ؟
انصار نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اور لوگ دثار ہیں (یعنی اور پر کا زائد کپڑا) اور انصار شعار ہیں (بدن سے ملاہوا اصل کپڑا) ، انصار میری جماعت ہیں اور مرے راز دار ہیں۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)