hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37954

.

كنز العمال

37954
Kanz al-Ummal
37942- عن أنس قال: جاء أسيد بن حضير إلى النبي صلى الله عليه وسلم وقد كان قسم طعاما فذكر له أهل بيت من الأنصار من بني ظفر فيهم حاجة وجل أهل ذلك البيت نسوة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "تركتنا يا أسيد حتى ذهب ما في أيدينا! فإذا سمعت بشيء قد جاءنا فاذكر لي أهل ذلك البيت،" فجاءه بعد ذلك طعام من خيبر شعير أو تمر، فقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس وقسم في الأنصار فأجزل، وقسم في أهل البيت فأجزل، فقال أسيد بن حضير متشكرا: جزاك الله أي نبي الله أطيب الجزاء - أو قال: خيرا - فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "وأنتم معشر الأنصار فجزاكم الله أطيب الجزاء" - أو قال خيرا - فإنكم ما علمت أعفة صبر، وسترون بعدي أثرة في الأمر والقسم فاصبروا حتى تلقوني على الحوض". "عد، هب كر".
٣٧٩٤٢۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت اسید بن حضیر (رض) حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے (آنے سے پہلے) کچھ غلہ مسلمانوں میں تقسیم کیا تھا۔ (یہاں آنے کے بعد) ان سے ایک گھر والوں کا کسی نے ذکر کیا کہ وہ انصار کے بنی ظفر قبیلے کے لوگوں کا گھر ہے اور وہ حاجت مند بھی تھے اور اس گھر والوں میں اکثر اہل خانہ کی تعداد عورتوں کی ہے (لیکن ان کو آپ نے مال نہیں دیا) چنانچہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اسید (رض) کو فرمایا : اے اسید ! تو نے ہم کو چھوڑ دیا گویا (اپنے آپ کو انصار کا فرد کہلوایا) حتی کہ ہمارے ہاتھوں میں جو مال تھا وہ ختم ہوگیا۔ اب جب تم دوبارہ سنو کہ ہمارے پاس مال آیا ہے تو مجھے اس گھر والوں کا یاد دلانا۔ چنانچہ بعد میں پھر حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں خیبر سے مال آیا جو جو یا کھجوریں تھیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں مال تقسیم فرمایا اور انصار کو خوب دیا اور اس محروم گھر میں بھی مال عطا کیا اور خوب دیا۔ چنانچہ حضرت اسید بن حضیر نے بطور شکریہ کے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! اللہ آپ کو بہترین جز (آئے خیر) عطافرمائے۔ میں جانتا ہوں بیشک تم لوگ صبر والے پاک دامن لوگ ہو اور عنقریب حکومت کے معاملے اور تقسیم میں میرے بعد اپنے اوپر اوروں کی ترجیح دیکھو گے۔ پس تم صبر کرتے رہنا۔ حتی کہ تم حوض پر مجھ سے آملو۔ (الکامل لابن عدی، شعب الایمان للبیھقی، ابن عساکر)