37973- عن الحسن قال: بين عبد الرحمن بن عوف وبين خالد بن الوليد كلام فقال خالد: لا تفخر علي يا ابن عوف بأن سبقتني بيوم أو يومين، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: دعوا لي أصحابي، فوالذي نفسي بيده! لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما أدرك نصيفهم، قال: فكان بعد ذلك بين عبد الرحمن والزبير شيء فقال خالد: يا نبي الله! نهيتني عن عبد الرحمن وهذا الزبير يسابه! فقال: إنهم أهل بدر وبعضهم أحق ببعض." كر".
٣٧٩٧٣۔۔۔ حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ عبدالرحمن بن عوف اور خالد بن الولید کے درمیان کچھ بات بڑھ گئی۔ حضرت خالد (رض) نے عرض کیا : اے ابن عوف ! مجھ پر فخر نہ کرو اس بات پر کہ تم ایک دو دن مجھ سے پہلے اسلام لائے ہو۔ یہ بات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو ارشاد فرمایا : میرے اصحاب کو میری خاطر چھوڑدو۔
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرلے تو وہ میرے صحابہ کی چادر کو نہیں پہنچ سکتے۔ راوی کہتے ہیں : پھر بعد میں عبدالرحمن (رض) اور زبیر (رض) کے درمیان کچھ بات بڑھی تو حضرت خالد (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے مجھے عبدالرحمن (رض) کے متعلق منع فرمایا تھا اب یہ زبیر (رض) ان کو گالی دے رہے ہیں ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ (دونوں) اہل بدر ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر حق رکھتے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)