38131 عن علي قال ما كتبنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا القرآن وما في هذه الصحيفة ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المدينة حرام ما بين عير إلى ثور لا يختلي خلاها ولا ينفر صيدها ولا يلتقط لقطتها إلا لمن أشاد بها ، ولا يصلح لرجل أن يحمل فيها السلاح لقتال ، ولا يصلح أن يقطع منها شجرة إلا أن يعلف رجل بعيره ، فمن أحدث حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين ، لا يقبل منه صرف ولا عدل ، ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم ، فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين ، لا يقبل منه عدل ولا صرف (ط ، عب ، حم ، خ ، م ، د ، ت ، ن ، ع وابن خزيمة وأبو عوانة والصحاوي ، حب ، ق).
٣٨١٣١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (سن کر) صرف قرآن اور یہ (حکمنامے کی) تحریر لکھی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقام عیر اور ثور کا درمیانی علاقہ حرم ہے نہ اس کی شاخ توڑی جائے، نہ اس کا شکار بدکایا جائے، اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے ہاں جو اعلان کرے وہ (اٹھاسکتا ہے) اور نہ کوئی شخص اس میں جنگ کے لیے ہتھیار اٹھاکر چل سکتا ہے، نہ اس کا کوئی درخت کاٹا جائے ہاں کوئی اپنے اونٹ کے چارے کے لیے کاٹے تو اجازت ہے، سو جس نے کوئی نئی بات (یا کام دین کی صورت میں) ایجاد کیا، یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ نہ اس کی نفل عبادت قبول ہے اور نہ فرض، مسلمانوں کی ذمہ داری ایک ہے جس کی ان کا ادنی شخص بھی کوشش کرے، جس نے کسی مسلمان کے ذمہ کو توڑا اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اس کی نفل عبادت قبول ہے نہ فرض۔ (ابوداؤد طیالسی، عبدالرزاق، مسند احمدبخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی نسائی، ابویعلی، ابن خزیمہ وابوعوانہ والطحاوی ابن حبان، بیھقی فی السنن)