4233 - "ومن مسند عثمان رضي الله عنه" عن أبي الزبير قال: "قلت لعثمان بن عفان {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجاً} الآية قال: قد نسختها الآية الأخرى. قلت فلم تكتبها أو تدعها؟ قال يا ابن أخي لا أغير شيئا منه من مكانه". "خ ق".
4233 (مسند عثمان (رض) حضرت ابو الزبیر (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے عرض کیا :
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا۔ (البقرہ : 240)
اور جو لوگ مرجاویں اور چھوڑ جائیں اپنی عورتیں تو وہ وصیت کریں اپنی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ایک برس تک بغیر نکالے گھر کے۔
تو فرمایا : اس (حکم) کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ میں نے عرض کیا : پھر اس کو لکھا کیوں نہیں۔ فرمایا : اے بھتیجے ! میں کوئی چیز اس کی جگہ سے بدل نہیں سکتا۔ بخاری، السنن للبیہقی۔
فائدہ : پہلے اسلام میں یہی حکم تھا کہ جن عورتوں کے شوہر وفات پاجائیں وہ سال بھر ان کے گھر میں رہیں۔ بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور عدت سال کے بجائے چار ماہ دس دن کردی گئی۔ اور اگر ان چار ماہ دس دنوں میں عورت کا حمل ظاہر ہوجائے تو وضع حمل تک عدت دراز ہوجائے گی یعنی وہ وضع حمل تک شادی نہیں کرسکے گی۔ اور رہا خرچ اور نفقہ وغیرہ کا سال تو وہ چونکہ اللہ نے شوہر کی وراثت میں اس کا حصہ مقرر کردیا اس کے لیے خرچ اور نفقہ کا بند و بست اس میراث سے کرے گی۔
اور حضرت ابو الزبیر (رح) کا پوچھنا کہ اس کو لکھا یا چھوڑا کیوں نہیں۔ اس کا مطلب تھا یا تو اس مقام پر یہ وضاحت کردیتے اس آیت کو لکھتے ہی نہیں۔ چونکہ حضرت عثمان (رض) نے قرآن کو جمع فرمایا تھا اور غیر قرآن تفسیر وغیرہ کو نکال دیا تھا اور خالص قرآن لکھا رہنے دیا تھا۔ اس وجہ سے انھوں نے یہ سوال کیا۔ غفر اللہ خطایای۔