hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4389

.

كنز العمال

4389
Kanz al-Ummal
4389- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه ببراءة إلى أهل مكة أن لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان، ولا تدخل الجنة إلا نفس مسلمة، من كان بينه وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد فأجله إلى مدته، والله بريء من المشركين ورسوله، فسار بها ثلاثا، ثم قال لعلي ألحقه فرد علي أبي بكر وبلغها أنت، ففعل، فلما قدم أبو بكر بكى فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم حدث في شيء؟ قال: "ما حدث فيك إلا خير، ولكني أمرت أن لا يبلغه إلا أنا أو رجل مني". "حم وابن خزيمة وأبو عوانة قط في الأفراد"
4389: ۔۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں مجھے سورة برأت دے کر اہل مکہ بھیجا کہ آئندہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا اور نہ بیت اللہ کا ننگے بدن کوئی طواف کرے گا۔ اور جنت میں صرف مسلمان داخل ہوگا۔ جس شخص کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معاہدہ ہو وہ اس مدت تک موثر ہوگا۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے برأت کا اعلان کرتے ہیں چنانچہ ابوبکر (رض) سورة برأت اور ان اعلانات کو لے کر چلے گئے آپ کے جانے کے تین یوم بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو فرمایا تم ابوبکر سے جا کر ملو۔ اور ان کو میرے اپس واپس بھیج دو اور یہ پیغام تم پہنچاؤ۔ چنانچہ تعمیل ارشاد میں حضرت علی (رض) بھی چلے گئے۔ حضرت ابوبکر (رض) واپس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچے تو رو پڑے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم آیا ہے ؟
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
تمہارے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں آیا۔ بس میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اس پیغام کو میں خود پہنچاؤں یا میرے (گھر والوں میں سے) متعلق کوئی شخص یہ پیغام پہنچائے۔ (مسند احمد، ابن خزیمہ، ابو عوانہ، الدارقطنی فی الافراد)