45634- عن جابر قال: هلك أبي وترك سبع بنات أو تسعا فتزوجت امرأة ثيبا، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تزوجت يا جابر؟ قلت 2 بعنزة: العنزة: مثل نصف الرمح أو أكبر شيئا، وفيها سنان الرمح، والعكازة: قريب منها. النهاية 3/308. ب. نعم، قال: بكرا أم ثيبا؟ قلت: بل ثيبا، قال: فهلا جارية تلاعبها وتلاعبك - أو قال: تضاجعها وتضاجعك؟ فقلت: إن أبي مات وترك تسع بنات أو سبعا، فإني كرهت أن أجيئهن بمثلهن، فقال: أحسنت! بارك الله فيك وقال لي خيرا. "ابن النجار".
45634 حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ میرے والد وفات پاگئے اور اپنے پیچھے نوبیٹیاں چھوڑ گئے چنانچہ میں نے ثیب (عورت) سے شادی کرلی۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! تم نے شادی کرلی میں نے عرض کیا : جی ہاں، ارشاد فرمایا : کنواری ہے یا ثیب ؟ میں نے عرض کیا بلکہ ثیب ہے۔ فرمایا : کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی ؟ تم اس کا جی بہلاتے وہ تمہارا جی بہلاتی۔ میں نے عرض کیا : میرے والد وفات پاگئے اور اپنے پیچھے نو بیٹیاں چھوڑ گئے یا فرمایا کہ سات بیٹیاں چھوڑ گئے مجھے ناپسند تھا کہ میں انہی جیسی اناڑی عورت سے شادی کرلوں۔ ارشاد فرمایا : بہت اچھا کیا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے آپ نے میرے لیے برکت کی دعا کی۔ رواہ ابن النجار