45919- عن جابر بن عبد الله أنه جاء يشكو إليه ما بقي من النساء فقال عمر: إنا لنجد ذلك حتى أني لأريد الحاجة فتقول: ما تذهب إلا إلى فتيات بني فلان تنظر إليهن! فقال له عبد الله بن مسعود عند ذلك: أما بلغك أن إبراهيم شكا إلى الله رديء خلق سارة، فقيل له: إنها خلقت من الضلع، جالسها على ما فيها ما لم تر عليها خربة في دينها؛ فقال له عمر: لقد حشا الله في أضلاعك علما كثيرا. "عب".
45919 حضرت جابر بن عبداللہ (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور اپنی بعض عورتوں کی ان سے شکایت کرنے لگے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہم بھی اپنے متعلق ایسا پاتے ہیں حتیٰ کہ میں اپنے کسی کام کے لیے باہر جانے کا ارادہ کرتا ہوں تو میری بیوی بھی کہتی ہے کہ تم فلاں قبیلہ کی لڑکیوں کے پاس جاتے ہو اور انھیں دیکھتے ہو۔ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بولے : آپ کو حدیث نہیں پہنچی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ (رض) کی بدخلقی کی اللہ تعالیٰ سے شکایت کی حضرت ابراہیم نے کہا گیا : عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے لہٰذا اس کی کجی کے ہوتے ہوئے اس کے ساتھ وقت گزارو جب تک اس میں تم کوئی دین کی خرابی نہ دیکھ لو حضرت عمر (رض) نے ابن مسعود (رض) سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہاری پسلیوں میں علم کثیر رکھ دیا ہے۔ رواہ عبدالرزاق