5682- عرضت علي الأمم، فرأيت النبي ومعه الرهط، والنبي ومعه الرجل، والرجلان، والنبي ليس معه أحد، إذ رفع لي سواد عظيم، فظننت أنهم أمتي، فقيل لي: هذا موسى وقومه، ولكن انظر إلى الأفق، فنظرت فإذا سواد عظيم، فقيل لي: انظر إلى الأفق الآخر، فإذا سواد عظيم، فقيل لي: هذه أمتك ومعهم سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب، قيل: من هم؟ قال هم الذين: لا يرقون، ولا يسترقون، ولا يتطيرون، ولا يكتوون، وعلى ربهم يتوكلون. "حم ق عن ابن عباس".
٥٦٨٢۔۔۔ میرے سامنے (عالم مثال میں) امتیں پیش کی گئیں، میں نے ایک نبی کے ساتھ ایک جماعت دیکھی، ایک نبی کے ساتھ ایک شخص اور دو آدمی دیکھے، اور ایک نبی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا، اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑا گروہ نمودار ہوا، میں نے سمجھا یہ میری امت ہے، مجھے کہا گیا : یہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم ہے، البتہ آپ اس کی طرف دیکھیں، میں نے دیکھا کہ بہت بڑا گروہ ہے پھر مجھ سے کہا گیا : اب آپ اس دوسری طرف دیکھیں، تو میں نے دیکھا تو وہاں بھی ایک بہت بڑا گروہ ہے تو مجھ سے کہا گیا : یہ آپ کی امت ہے ان کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہیں، جو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے، کسی نے عرض کیا : وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جو جھاڑ پھونک نہیں کرتے، اور نہ کسی سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ فال لیتے اور نہ جانوروں کو داغتے ہیں، (بلکہ) وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (مسند احمد بخاری مسلم عن ابی عباس