8858- عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الإنسان هكذا هذا المربع الأجل والذي وسطه الإنسان والحلقة الخارجة الأمل، وهذه الحروف الأعراض، والأعراض تنهشه من كل مكان، كلما أفلت من واحد أخذه واحد، والأجل قد حال دون الأمل. الرامهرمزي، وقال: هكذا كتبناه من كتاب شيخنا الحسين بن محمد بن الحسين الخياط، وقال لنا الحسين: هكذا كتبناه من كتاب أحمد بن منصور الرمادي، وقال الرمادي: هكذا كتبناه من كتاب أبي حذيفة موسى بن مسعود النهدي راوي الحديث عن سفيان، قلت: وأنا كتبته من نسخة الأمثال للرامهرمزي بخط الحافظ الكبير عبد الغني المقدسي مؤلف عمدة الأحكام، ثم قال الرامهرمزي: الحروف التي في جوانب الخط المربع يجب أن تكون رؤسها إلى جانب داخل الخط، قال: قال أبو القاسم بن طالب الذي أراده أبو محمد: ينبغي أن يكون شكله وصورته هكذا.
٨٨٥٨۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : انسان اس طرح ہے :
یہ مربع موت ہے اور درمیان میں انسان ہے۔
اور باہر نکلنے والا حلقہ امیدیں ہیں اور یہ لکیریں عوارض ہیں، عوارض ہر طرف سے اس کو اچک گی، اگر ایک سے بچے گا
دوسری اسے آئے گی، اور موت کے درمیان حائل ہوجائے گی، (الرامہرمزی) فرماتے ہیں ہم نے اسی طرح اپنے شیخ حسین بن محمد احمد بن منصور الرمادی کی کتاب سے نقل کیا ہے ، اور مادی نے کہا : اسی طرح ہم نے ابوحذیفہ موسیٰ بن مسعود الندی کی کتاب سے نقل کیا ہے جو اس حدیث کو سفیان سے روایت کرنے والے ہیں۔ میں (مصنف کتاب ) نے اسے رامہر مزی کے نسخہ سے نقل کیا ہے جو حافظ عظیم عبدالغنی مقدسی ، مولف عمدۃ الاحکام کے خط (کتابت) سے لکھا ہے۔
پھر رامہرمزی نے فرمایا : وہ لکیریں جو مربع شکل کے اطراف میں ہیں ضروری ہے کہ سرے خط کے اندر کی طرف ہوں فرماتے ہیں ابوالقاسم بن طالب نے فرمایا : جس کا ابومحمد نے ارادہ کیا ہے، مناسب ہے کہ اس کی شکل و صورت اس طرح ہو۔