HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37053

37043- عن أبي جريج عن الزهري قال: قدم خزيمة بن الحكيم السلمي ثم البهزي على خديجة بنت خويلد وكان إذا قدم عليها أصابته بخير ثم انصرف إلى بلاده، وإنه قدم عليها مرة فوجهته مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه غلام لها يقال له ميسرة إلى بصرى وبصرى من أرض الشام، وأحب خزيمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حبا شديدا حتى اطمأن إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له خزيمة: يا محمد! إني أرى فيك أشياء ما أراها في أحد من الناس، وإنك لصريح في ميلادك، أمين في أنفس قومك، وإني أرى عليك من الناس محبة، وإني لأظنك الذي يخرج بتهامة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: فإني محمد رسول الله، قال: أشهد أنك لصادق، وإني قد آمنت بك، فلما انصرفوا من الشام رجع خزيمة إلى بلاده وقال: يا رسول الله! إذا سمعت بخروجك أتيتك، فأبطأ على رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كان يوم فتح مكة أقبل خزيمة حتى وقف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم لما نظر إليه: مرحبا بالمهاجر الأول! قال خزيمة: أما والله يا رسول الله! لقد أتيتك عدد أصابعي هذه فما نهنهني عنك إلا أن أكون مجدا في إعلانك غير منكر لرسالتك ولا مخالف لدعوتك، آمنت بالقرآن وكفرت بالأوثان، وأتيتك يا رسول الله غير مبدل لقولي ولا ناكث لبيعتي.فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله يعرض على عبده في كل يوم نصيحة فإن هو قبلها سعد وإن تركها شقي، فإن الله باسط يده لمسيء النهار ليتوب، فإن تاب تاب الله عليه، وإن الحق ثقيل كثقله يوم القيامة، وإن الباطل خفيف كخفته يوم القيامة، وإن الجنة محظور عليها بالمكاره، وإن النار محظور عليها بالشهوات، أنعم صباحا تربت يداك! قال خزيمة: يا رسول الله! أخبرني عن ظلمة الليل وضوء النهار وحر الماء في الشتاء وبرده في الصيف ومخرج السحاب، وعن قرار ماءالرجل وماء المرأة، وعن موضع النفس من الجسد وما شراب المولود في بطن أمه، وعن مخرج الجراد، وعن البلد الأمين. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما ظلمة الليل وضوء النهار فإن الله عز وجل خلق خلقا من غشاء الماء باطنه أسود وظاهره أبيض، وطرفه بالمشرق وطرفه بالمغرب، تمده الملائكة، فإذا أشرق الصبح طردت الملائكة الظلمة حتى تجعلها في المغرب وينسلخ الجلباب، وإذا أظلم الليل طردت الملائكة الضوء حتى تجعله في طرف الهواء، فهما كذلك يتراوحان، لا يبليان ولا ينفدان، وأما إسخان الماء في الشتاء وبرده في الصيف فإن الشمس إذا سقطت تحت الأرض سارت حتى تطلع من مكانها، فإذا طال الليل في الشتاء كثر لبثها في الأرض فسخن الماء لذلك، فإذا كان الصيف مرت مسرعة لا تلبث تحت الأرض لقصر الليل فثبت الماء على حاله باردا، وأما السحاب فينشق من طرف الخافقين السماء والأرض، فيظل عليه الغبار، مكفف من المزاد المكفوف، حوله الملائكة صفوف، تخرقه الجنوب والصبا، وتلحمه الشمال والدبور، وأما قرار ماء الرجل فإنه يخرج ماؤه من الإحليل وهو عرق يجري من ظهره حتى يستقر قراره في البيضة اليسرى، وأما ماء المرأة فإن ماءها في التريبة يتغلغل لا يزال يدنو حتى يذوق عسيلتها،وأما موضع النفس ففي القلب معلق بالنياط والنياط يسقي العروق، فإذا هلك القلب انقطع العرق، وأما شراب المولود في بطن أمه فإنه يكون نطفة أربعين ليلة، ثم علقة أربعين ليلة، ومشيجا أربعين ليلة، وعميسا أربعين ليلة، ثم مضغة أربعين ليلة، ثم العظم حنيكا أربعين ليلة، ثم جنينا، فعند ذلك يستهل وينفخ فيه الروح، فإذا أراد الله أن يخرجه تاما أخرجه وإذا أراد أن يؤخره في الرحم تسعة أشهر فأمره نافذ وقوله صادق تحملت عليه عروق الرحم ومنها يكون غذاء الوليد، وأما مخرج الجراد فإنه نثرة حوت في البحر يقال له الابزار وفيه يهلك، وأما البلد الأمين فبلد مكة مهاجر الغيث والرعد والبرق لا يدخلها الدجال، وآية خروجه إذا منع الحياء وفشا الزنا ونقض العهد."كر وابن شاهين".
٣٧٠٤٣۔۔۔ ابوجریج زہری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ خزیمہ بن حکیم سلمی بہری حضرت خدیجہ بنت خویلد (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے خزیمہ (رض) جب کبھی آتے خیروبھلائی لے کر واپس لوٹ جاتے چنانچہ ایک مرتبہ خدیجہ (رض) نے میرے پاس آئی خدیجہ (رض) نے خزیمہ (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بصری روانہ کیا آپ کے ساتھ خدیجہ (رض) کا غلام میسر بھی تھا بصرہ سرزمین شام میں واقع ہے خزیمہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت محنت کرتے تھے حتیٰ کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان سے اطمینان ہوگیا خزیمہ (رض) نے عرض کیا : یامحمد ! میں تمہارے اندر بہت سارے اوصاف دیکھ رہا ہوں جو مجھے کسی انسان میں نظر نہیں آتے تم اپنی میلاد میں صریح تر ہو اپنی قوم کے ہاں امین ہو میں دیکھتا ہوں کہ لوگ تم سے بےپناہ محبت کرتے ہیں میرا خیال ہے کہ سرزمین تہامہ میں جس کا ظہور ہونے والا ہے وہ تم ہی ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں محمد اللہ کا رسول ہوں نے عرض کیا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں آپ پر ایمان لاچکے ہوں جب قافلہ شام سے واپس لوٹا خزیمہ (رض) اپنے علاقہ میں چلے گئے، اور جاتے جاتے عرض کیا : یارسول اللہ ! جب میں آپ کی ہجرت کا سنوں گا آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں گا چنانچہ تک اپنے گاؤں میں ٹھہرے رہے حتی کہ فتح مکہ کے موقع پر حدمت اقدس میں حاضر ہوئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ (رض) کو دیکھا فرمایا : سب سے پہلے ہجرت کرنے والے کو مرحبا عرض کیا یارسول اللہ میں اپنی ان انگلیوں کی تعداد کے بقدر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے آپ سے صرف اس چیز نے روکے رکھا کہ میں آپ کے اعلان کا۔ (ہجرت کے واسطے) انتظار کرتا رہا ورنہ تو میں آپ کی رسالت کا منکر نہیں ہوں اور نہ ہی آپ کی دعوت کا مخالف میں قرآن پر ایمان لایا اور بتوں سے انکار کیا ۔ یارسول اللہ ! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اپنے قول میں تبدیلی نہیں کی آپ کی بیعت کو توڑا بھی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر ہر دن ایک نصیحت پیش کرتا ہے اگر وہ اسے قبول کرلے سخاوت میں رہتا ہے اور اگر اسے ترک کردے بدبخت ہوجاتا ہے جو شخص دن میں گناہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ کشادہ کردیتا ہے اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے بلاشبہ حق ثقیل چیز ہے جیسا کہ قیامت کے دن کا ثقل ہے اور باطل ہلکا ہے جیسا کہ قیامت کے دن ہلکا پھلکا ہوگا جنت کو ناگواریوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے جب کہ دوزخ کو شہوات سے ڈھانپ دیا گیا ہے تیرے ہاتھ خاک آلود رہیں خوش رہو حضرت خزیمہ (رض) نے پوچھا : یارسول اللہ ! مجھے بتائیں رارت کو تاریکی اور دن میں روشنی کیوں ہوتی ہے سردیوں میں ۔ (زمین سے نکلنے والا) پانی گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا کیوں ہوتا ہے بادلوں کا مخرج کیا ہے مرد کا مادہ منویہ اور عورت کا مادہ منویہ کہاں قرار پکڑے ہوئے ہے جس میں جان کا ٹھکانا کہاں ہے ماں کے پیٹ میں بچہ کیا میت ہے ہڈیوں کا مخرج کیا ہے اور بلدامین سے کیا مراد ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہی بات رات کی تاریکی اور دن کے اجالے کی سو اللہ تعالیٰ نے پردہ ماء سے ایک مخلوق پیدا کررکھی ہے جس کا باطن سیاہ اور ظاہر سفید ہے اس کی ایک طرف مشرق میں ہے اور دوسری طرف مغرب میں اس پردے کو فرشتوں نے تان رکھا ہے جب صبح نمودار ہوتی ہے فرشتے پر وہ طلعت کو کھینچ لیتے ہیں اور اس پردے کو مغرب کی طرف دھکیل دیتے ہیں جب رات ہونے لگتی ہے فرشتے پردہ کو کشید کرلیتے ہیں اور اسے ہوا کے دوش میں دھکیل دیتے ہیں یہ پردے اسی طرح کارآمد ہیں پوشیدہ نہیں ہونے پاتے اور نہ ہی کبھی ہوتے ہیں۔ رہی بات سردیوں میں (زمین سے نکلنے والے) پانی کے گرم ہونے اور گرمیوں میں ٹھنڈا ہونے کی اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سردیوں میں راتیں لمبی ہوجاتی ہیں سورج سطح زمین سے اوجھل ہوجاتا ہے اور پانی کافی دیر تک زمین میں ٹھررہتا ہے اور یوں گرم ہوجاتا ہے جب کہ گرمیوں میں راتیں چھوٹی ہوتیں ہیں اور پانی اپنی حالت پر برقرار دیتا ہے۔ رہی بات بادلوں کی سو زمین و آسمان کے دھنسے ہوئے مقام میں بادلوں میں شگاف پڑتا ہے پھر اس پر غبار کی تہہ پڑجاتی ہے جب کہ جنوبی اور صبائی ہوائیں اس کے فرق کا باعث بنتی ہیں اور مکفوف مزید سے جمع ہوتے ہیں جب کہ شمالی اور دبورہوائیں بادلوں کو باہم ملا دیتی ہیں۔ رہی بات مرد کے مادہ منویہ کے قرارگاہ کی چنانچہ مرد کا مادہ منوہ احلیل۔ (آلہ تناسل) سے خارج ہوتا ہے اور یہ ایک رگ ہے جس کا سلسلہ براہ راست پشت سے منسلک ہے حتیٰ کہ وہاں سے ہوتا ہوا بائیں فوتے میں ٹھہرجاتا ہے۔ رہی بات عورت کے مادہ منویہ کی سودہ اس کے سینے میں سختی سے گھسا ہوتا ہے وہ لگاتارقریب ترہوتا ہے حتیٰ کہ مرداس کے عسیلہ (شہد) کو چکھ لیتا ہے رہی بات جان کی سو اس کاٹھ کا بادل ہے جو مسلسل روابط کے ساتھ متعلق ہے اور روابط رگوں میں جاری وساری رہتے ہیں جب دل ہلاک ہوجاتا ہے رگوں کا باہمی رابطہ منقطع ہوجاتا ہے رہی بات ماں کے پیٹ میں بچے کے رہنے کی سو اس کی صورت حال یہ ہے کہ بچہ چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے پھر چالیس دن تک جماہوا خون ہوتا ہے چالیس دن تک نرم مادہ رہتا ہے چالیس دن میں سخت ہوجاتا ہے پھر چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے پھر باریک ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر جنین کی صورت اختیار کرلیتا ہے اس وقت اس میں چیخنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے تام حالت میں نکالنا چاہتا ہے نکال دیتا ہے اور جب اسے رحم مادر میں نومہینے تک رکھنا چاہتا ہے تو اس کا حکم نافذ ہوجاتا ہے اس جنین پر رحم کی رگیں چڑھی ہوتی ہیں انہی کو غذا میسر ہوتی ہے رہی بات ہڈیوں کی جائے خروج کی سو وہ سمندر میں مچھلی کی ایک چھینک سے پیدا ہوتی ہیں اسے ابزارکہا جاتا ہے رہی بات بلد امین کی سو وہ مکہ مکرمہ ہے جہاں آندھی کڑک اور بجلی کا وقوع نہیں ہوتا اس میں دجال داخل نہیں ہوگا دجال کے خروج کی نشانی یہ ہے کہ جب روک دیا جائے زنا عام ہوجائے اور عہد و معاہدہ توڑا جائے۔ (رواہ ابن عساکر وابن شاھین)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 37053 | undefined - Hadith.one