HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

37844

37831- عن نهشل بن سعيد عن الضحاك بن مزاحم عن ابن عباس قال: مكث عمر يسأل عن أويس القرني عشر سنين فذكر أنه قال: يا أهل اليمن! من كان من مراد فليقم، فقام من كان من مراد وقعد آخرون، فقال: أفيكم أويس؟ فقال رجل: يا أمير المؤمنين! لا نعرف أويسا ولكن ابن أخ لي يقال له أويس هو أضعف وأمهن من أن يسأل مثلك عن مثله، قال له أبحر منا هو؟ قال: نعم، هو بالأراك بعرفة يرعى إبل القوم فركب عمر وعلي رضي الله عنهما حمارين ثم انطلقا حتى أتيا الأراك فإذا هو قائم يصلي يضرب ببصره نحو مسجده وقد دخل بعضه في بعض، فلما رأياه قال أحدهما لصاحبه: إن يك أحد الذي نطلبه فهذا هو، فلما سمع حسهما خفف وانصرف، فسلما عليه فرد عليهما: وعليكما السلام ورحمة الله وبركاته، فقالا له: ما اسمك رحمك الله؟ قال: أنا راعي هذه الإبل، قالا: أخبرنا باسمك، قال: أنا أجير القوم، قالا: ما اسمك؟ قال أنا عبد الله، فقال له علي: قد علمنا أن من في السماوات والأرض عبد الله فأنشدك برب هذه الكعبة ورب هذا الحرم ما اسمك الذي سمتك به أمك؟ قال: وما تريدان من ذلك؟ أنا أويس بن عامر، فقالا له: اكشف لنا عن شقك الأيسر، فكشف لهما، فإذا لمعة بيضاء قدر الدرهم من غير سوء، فابتدرا يقبلان الموضع ثم قالا له: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا أن نقرئك السلام وأن نسألك أن تدعو لنا، فقال: إن دعائي في شرق الأرض وغربها لجميع المؤمنين والمؤمنات، فقالا: ادع لنا، فدعا لهما وللمؤمنين والمؤمنات، فقال له عمر: أعطيك شيئا من رزقي أو من عطائي تستعين به! فقال: ثوباي جديدان ونعلاي مخصوفتان ومعي أربعة دراهم ولي فضلة عند القوم، فمتى أفني هذا! إنه من أمل جمعة أمل شهرا ومن أمل شهرا أمل سنة، ثم رد على القوم إبلهم ثم فارقهم فلم ير بعد ذلك."كر".
٣٧٨٣١۔۔۔ نہشل بن سعید، ضحاک بن مزاحم سے وہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) دس سال تک اویس قرنی کے بارے میں لوگوں سے تفتیش کرتے رہے۔ ایک مرتبہ اہل (ایمن سے آنے والے ) حاضرین کو فرمایا : اے اہل یمن !
تم میں سے جو (قبیلہ) مراد کے لوگ ہوں وہ اٹھ کھڑے ہوں۔ چنانچہ مرادی اٹھ گئے اور دوسرے بیٹھے رہے۔ پھر ان سے پوچھا : کیا تم میں اویس ہیں ؟ ایک آدمی نے کہا : اے امیر المومنین ! ہم کسی اور اویس کو تو نہیں جانتے، سوائے میرے بھتیجے کے، اس کو بھی اویس کیا جاتا ہے، لیکن وہ تو ایسا غریب اور بےوقعت آدمی ہے کہ آپ جیسی شخصیت اس کے متعلق نہیں پوچھ سکتی۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے پوچھا : کیا وہ ہمارے حرم (مکہ) میں ہے ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں وہ میدان عرفات میں پیلو کے درختوں کے پاس ہے، اور لوگوں کے اونٹ چرارہا ہے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) اور حضرت علی (رض) دونوں گدھوں پر سوار ہوئے اور پیلو کے درختوں کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو ایک شخص کھڑا نماز پڑھ رہا ہے اور اس کی نظر سجدے کی جگہ گڑی ہوئی ہے۔
اس کا حال کمزوری کی وجہ سے ایسا تھا گویا پسلیاں وغیرہ ایک دوسرے میں گھسی ہوئی ہیں۔ دونوں صحابیوں نے ان کو دیکھا تو آپس میں بولے : ہم جس کی تلاش میں ہیں وہ یہی شخص ہوسکتا ہے۔ اس آدمی نے ان دونوں کی آہٹ سنی تو اس نے نماز ہلکی کردی اور سلام پھیردیا۔ دونوں نے اس کو سلام کیا تو اس نے جواب میں کہا وعلیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ (تم دونوں پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں) پھر دونوں نے اس سے پوچھا : آپ کا نام کیا ہے ؟ اللہ آپ پر رحم ! اس شخص نے جواب دیا : میں ان اونٹوں کا چرواہا ہوں۔ دونوں نے پھر دونوں پوچھا : ہمیں آپ اپنا نام بتائیے، اس شخص نے پھر کہا : میں قوم کا مزدور ہوں۔ دونوں نے کہا : آپ کا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا : میں اللہ کا بندہ ہوں۔ تب حضرت علی (رض) نے اس کو فرمایا : بیشک ہم جانتے ہیں کہ جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ سب اللہ کے بندے ہیں۔ میں آپ کو اس کعبہ کے رب کا واسطہ دیتا ہوں اور اس حرم کے رب کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ اپنا وہ نام ہمیں بتائیے جو آپ کی ماں نے آپ کا رکھا تھا ؟ تب اس شخص نے کہا : میں اویس بن عامر ہوں، آپ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ دونوں نے کہا : آپ اپنے بائیں پہلو کو کھولیئے۔ حضرت اویس (رح) نے اپنے بائیں، پہلو سے کپڑا اٹھایا تو وہاں درہم کی بقدر ایک سفید داغ تھا۔ لیکن کوئی ٍبیماری باقی نہ تھی۔
چنانچہ دونوں حضرات آگے بڑھے اور اس جگہ کو چومنے لگے پھر دونوں نے کہا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا تھا کہ ہم آپ کو (ان کا) سلام پہنچا دیں اور آپ سے دعا کے لیے درخواست کریں۔ حضرت اویس (رح) نے فرمایا : میر دعا زمین کے مشرق و مغرب میں بسنے والے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے ہے۔ دونوں حضرات نے پھر درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے دعا فرمادیں۔ چنانچہ حضرت اویس (رح) نے ان دونوں کے لیے اور تمام مومن مرد اور عورتوں کے لیے بھی دعا فرمائی۔ پھر حضرت عمرر ضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اپنی تنخواہ میں سے کچھ حصہ آپ کو دینا چاہتا ہوں، آپ اس سے اپنے کام میں مدد لیجئے گا۔ حضرت اویس (رح) نے فرمایا : میرے دونوں کپڑے (جو جسم پر ہیں) نئے ہیں اور میرے دونوں جوتے مضبوط سلے ہوئے ہیں اور میرے پاس چار درہم ہیں۔
اور میرا کچھ سامان لوگوں کے پاس ہے۔ پس میں یہ سامان کب ختم کروں گا ؟
بیشک جو شخص ایک ہفتے کی روزی کی سوچ میں پڑتا ہے پھر اس کو مہینے بھر کی فکر لگ جاتی ہے اور جو مہینے کی فکر کرتا ہے پھر اس کو سال بھر کی روزی کی فکر پریشان کرتی رہتی ہے۔ پھر حضرت اویس (رح) نے لوگوں کے اونٹ ان کو واپس
کردئیے اور وہاں سے روپوش ہوگئے اور پھر نظر نہیں آئے۔ (ابن عساکر)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔