HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

38229

38217- عن عبد الله بن حوالة الأزدي أنه قال: يا رسول الله اكتب لي - وفي لفظ: خر لي - بلدا أكون فيه، فلو أعلم أنك تبقى لم أختر على قربك شيئا، قال: "عليك بالشام" - ثلاثا فلما رأى النبي صلى الله عليه وسلم كراهيتي للشام قال: "هل تدرون ما يقول الله عز وجل في الشام؟ " يقول: "يا شام؟ يدي عليك يا شام! أنت صفوتي من بلادي، أدخل فيك خيرتي من عبادي، أنت سيف نقمتي وسوط عذابي، أنت الأنذر وإليك المحشر، ورأيت ليلة أسري بي عمودا أبيض كأنه لؤلؤ تحمله الملائكة، قلت: ما تحملون؟ قالوا: عمود الإسلام، أمرنا أن نضعه بالشام، وبينا أنا نائم رأيت كتابا - وفي لفظ: عمود الكتاب - اختلس من تحت وسادتي، فظننت أن الله قد تخلى عن أهل الأرض، فأتبعته بصري فإذا هو نور ساطع بين يدي حتى وضع بالشام، فقال ابن حوالة: يا رسول الله! خر لي، قال: "عليك بالشام، فمن أبى أن يلحق بالشام فليلحق بيمنه وليسق من غدره، فإن الله تكفل لي بالشام وأهله". "كر، وفيه صالح بن رستم أبو عبد السلام مجهول، وقال في الميزان: روى عنه ثقتان فخفت الجهالة".
٣٨٢١٧۔۔۔ عبداللہ بن حوالہ الازدی سے روایت ہے کہ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے لیے تحریر لکھ دیجئے اور ایک روایت میں ہے : میرے لیے پسند کرلیجئے، کوئی شہر جس میں میں رہوں اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ زندہ رہیں گے تو میں آپ کی قربت پر کسی چیز کو پسند نہ کرتا، آپ نے فرمایا : شام، اور تین بار فرمایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب میری شام کے بارے میں ناپسندیدگی نظر نہ آئی تو فرمایا : تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ شام کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے شام ! میرا (رحمت کا) ہاتھ تجھ پر ہے اے شام ! تو میری پسندیدہ جگہ ہے میں تجھ میں اپنے بہترین بندے داخل کروں گا، تو میرے انتقام کی تلوار اور میرے عذاب کا کوڑا ہے تو زیادہ ڈرانے والی اور تیری طرف محشر ہوگا۔
اور میں نے معراج کی رات ایک سفید ستون دیکھا، گویا وہ موتی ہے جسے فرشتے اٹھائے ہوئے تھے، میں نے کہا : تم نے کیا اٹھا رکھا ہے ؟ وہ کہنے لگے : اسلام کا ستون ہے، ہمیں اسے شام میں رکھنے کا حکم ہے، اور ایک دفعہ میں سو رہا تھا کہ میں نے ایک کتاب دیکھی ایک روایت میں ہے کتاب کا ستون دیکھا، جو میرے تکئے کے نیچے سے اچک لیا گیا، میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو چھوڑ دیا ہے میں نے اس کے پیچھے اپنی نظر دوڑائی تو وہ ایک نور تھا جو میرے سامنے چھایا ہوا تھا، یہاں تک کہ شام میں رکھ دیا گیا۔
حضرت ابن حوالہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے لیے پسند فرمائیں، فرمایا : شام اور جو شام میں نہ جانا چاہے وہ اس کے یمن میں چلا جائے، اور اس کے حوضوں کا پانی پیئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ میرے لیے شام اور شام کے باسیوں کی طرف سے کافی ہے۔ (ابن عساکر وفیہ صالح بن رستم ابوعبد السلام مجھول وقال فی المیزان، روی عنہ ثقتان فخفت الجھالۃ )

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 38229 | undefined - Hadith.one