عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ اَنَّهُ اِنْتَهَى اِلَى الْجَمْرَةِ الكُبْرَى فَجَعَلَ البَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ البَقَرَةِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رمی کے لیے جمرہ کبریٰ کے پاس پہنچے ، پھر اس طرح اس کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے کہ بیت اللہ (یعنی مکہ) اس کے بائیں جانب تھا اور منیٰ داہنی جانب ۔ اس کے بعد انہوں نے جمرہ پر سات کنکریاں ماریں ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ : اسی طرح رمی کی تھی اس مقدس ہستی نے جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی (جس میں حج کے احکام اور مناسک کا بیان ہے) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رمی کرنے کے طریقے کو تفصیل سے یاد رکھا تھا ، اور اسی کے مطابق عمل کر کے لوگوں کو دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن پر اللہ نے حج کے احکام نازل کئے گھے اسی طرح رمی کیا کرتے تھے ۔