عَنْ جَابِرٍ قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَيَقُولُ : « لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ » (رواه مسلم)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (۱۰ ذی الحجہ کو) اپنی ناقہ پر سے رمی کرتے ہوئے دیکھا ، آپ اس وقت فرما رہے تھے کہ تم مجھ سے اپنے مناسک سیکھ لو ، میں نہیں جانتا کہ شاید اس حج کے بعد میں کوئی اور حج نہ کروں (اور پھر تمہیں اس کا موقع نہ ملے) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
دسویں ذی الحجہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ناقہ پر مزدلفہ سے روانہ ہو کر منیٰ پہنچے تو اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقہ پر سوار ہونے ہی کی حالت میں جمرہ عقبہ کی رمی کی ، تا کہ سب لوگ آپ کو رمی کرتا ہوا دیکھ کر رمی کا طریقہ سیکھ لیں اور آسانی سے مسائل اور مناسک پوچھ سکیں ، لیکن دوسرے اور تیسرے دن آپ نے رمی پاپیادہ کی ...... بہر حال رمی سوار ہو کر بھی جائز ہے اور پا پیادہ بھی ۔
یہ اشارہ حجۃ الوداع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ : اہل ایمان مجھ سے مناسب اور دین و شریعت کے احکام سیکھ لیں ، شاید اب اس دنیا میں میرا قیام بہت زیادہ نہیں ہے ۔