hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 1035

8. کتاب الحج

معارف الحدیث

1035
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَامًا ، وَّإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا ، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ ، وَلَا يُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ. (رواه مسلم)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : حضرت ابراہیمؑ نے مکہ کے “ حرم ” ہونے کا اعلان کیا تھا (اور اس کے خاص آداب و احکام بتائے تھے) اور میں مدینہ کے “ حرم ” قرار دئیے جانے کا اعلان کرتا ہوں ، اس کے دونوں طرف کے دروں کے درمیان پورا رقبہ واجب الاحترام ہے ، اس میں خوں ریزی نہ کی جائے ، کسی کے خلاف ہتھیار نہ اٹھایا جائے (یعنی اسلحہ کا استعمال نہ کیا جائے) اور جانورون کے چارے کی ضرورت کے سوا درختوں کے پتے بھی نہ جھاڑے جائیں ۔ (صحیح مسلم)

تشریح
جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا ، مدینہ طیبہ بھی سرکاری علاقہ کی طرح واجب الاحترام ہے ، اور وہاں ہر وہ عمل اور اقدام منع ہے جو اس کی عظمت و حرمت کے خلاف ہو ، لیکن اس کے احکام بالکل وہ نہیں ہیں جو حرم مکہ کے ہیں ۔ خود اسی حدیث مین اس کا اشارہ موجود ہے ، اس میں جانوروں کے چارہ کے لیے وہاں کے درختوں کے پتے توڑنے اور جھاڑنے کی اجازت دی گئی ہے ، جب کہ حرم مکہ میں اس کی بھی اجازت نہیں ہے ۔