عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ اَبَدًا . (رواه النسائى)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حرص و بخل اور ایمان کبھی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے (یعنی بخیلی و کنجوسی اور ایمان کا کوئی جوڑ نہیں) ۔ (سنن نسائی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت اور بخل کی عادت میں ایسی منافات ہے کہ جس دل کو حقیقی ایمان نصیب ہو گا اس میں بخل نہیں آ سکتا ، اور جس میں بخل دیکھا جائے تو سمجھ لیا جائے کہ اس میں ایمان کا نور نہیں ہے ۔ ذرا سا غور کرنے سے ہر ایک کی سمجھ میں یہ بات آ سکتی ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر کامل ایمان و یقین کے بعد دل میں بخل اور کنجوسی جیسی کسی خصلت کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں رہ سکتی ۔