hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 267

3. کتاب الاخلاق

معارف الحدیث

267
Maarif ul Hadith
عَنِ عَبْدِاللهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَمْ أَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَصَمَتَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَمْ أَعْفُو عَنِ الخَادِمِ؟ فَقَالَ : كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً . (رواه الترمذى)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنے خادم (غلام یا نوکر) کا قصور کتنی دفعہ معاف کروں ؟ آپ نے اُس کو کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہے ۔ اُس نے پھر وہی عرض کیا ، کہ میں اپنے خادم کو کتنی دفعہ معاف کروں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا ہر روز ستر دفعہ ۔ (جامع ترمذی)

تشریح
سوال کرنے والے کا مقصد یہ تھا کہ حضرت اگر میرا خادم غلام یا نوکر بار بار قصور کرنے ، تو کہاں تک میں اس کو معاف کروں ، اور کتنی دفعہ معاف کرنے کے بعد میں اس کو سزا دوں ؟ آپ نے جواب دیا کہ : اگر بالفرض روزانہ ستر دفعہ بھی وہ قصور کرے ، تو تم اس کو معاف ہی کرتے رہو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ قصور کا معاف کرنا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی حد مقرر کی جائے ، بلکہ حسن اخلاق اورترحم کا تقاضا یہ ہے کہ اگر بالفرض وہ روزانہ ستر دفعہ بھی قصور کرے تو اس کو معاف ہی کر دیا جائے ۔
ف ۔ ۔ ۔ جیسا کہ بار بار لکھا جا چکا ہے ، ستر کا عدد ایسے موقعوں پر تحدید کے لئے نہیں ہوتا بلکہ صرف تکثیر کے لئے ہوتا ہے ، اور خاص کر اس حدیث میں یہ بات بہت ہی واضح ہے ۔