عَنْ زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ اَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ وَعَدَ رَجُلًا فَلَمْ يَاتِ اَحَدُهُمَا اِلَى وَقْتِ الصَّلوٰةِ وَذَهَبَ الَّذِىْ جَاءَ لِيُصَلِّىْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ . (رواه رزين)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے کسی دوسرے شخص سے (کسی جگہ آ کر ملنے کا) وعدہ کیا ، پھر نماز کے وقت تک اُن میں سے ایک نہیں آیا (اور دوسرا وقت معین پر مقرر جگہ پر پہنچ گیا ، اور نہ آنے والے کا انتظار کرتا رہا ، یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا) اور یہ پہنچ جانے والا نماز پڑھنے کے لئے مقررہ جگہ سے چلا گیا ، تو اس کو کوئی گناہ نہ ہو گا ۔ (رزین)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب وعدہ کے مطابق یہ شخص مقررہ جگہ پر پہنچ گیا ، اور کچھ دیر تک دوسرے آدمی کا انتظار بھی کرتا رہا ، تو اس نے اپنا حق ادا کر دیا ، اب اگر نماز کا وقت آ جانے پر یہ شخص نماز پڑھنے کے لئے چلا جائے ، یا اپنی کسی دوسری ضرورت سے چلا جائے ، تو اس پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں آئے گا ، اور یہ گناہ گار نہیں ہو گا ۔