عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : « إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ، وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ » (رواه ابو داؤد والترمذى)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ، جب کسی آدمی نے اپنے کسی بھائی سے آنے کا وعدہ کیا ، اور اس کی نیت یہی تھی کہ وہ وعدہ پورا کرے گا ، لیکن (کسی وجہ سے) وہ مقررہ وقت پر آیا نہیں ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ (سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے کوئی وعدہ کیا ہے اور نیت اس کو پورا کرنے کی ہی تھی ، لیکن کسی وجہ سے وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکا تو عنداللہ گناہگار نہ ہو گا ، لیکن اگر نیت ہی وعدہ پورا کرنے کی نہ تھی ، اور اس کا یہ وعدہ ایک طرح کا فریب تھا ، تو اس کے گناہ ہونے میں شبہ نہیں ۔