عَنْ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الحَيَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « دَعْهُ فَإِنَّ الحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ، انصار میں سے ایک شخص پر ہوا ، اور وہ اس وقت اپنے بھائی کو حیا کے بارہ میں کچھ نصیحت و ملامت کر رہا تھا ، تو آپ نے اس سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو کیوں کہ حیا تو ایمان کا جز یا ایمان کا پھل ہے ۔ (صحیح بخاری و مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انصار میں سے کوئی صاحب تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے شرم و حیا کا وصف خاص طور سے عطا فرمایا تھا ، جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اپنے معاملات میں نرم ہوں گے ، سخت گیری کے ساتھ لوگوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی نہ کرتے ہوں گے ، اور بہت سے موقعوں پر اسی شرم و حیا کی وجہ سے کھل کر باتیں بھی نہ کر پاتے ہوں گے ، جیسا کہ اہلِ حیا کا عموماً حال ہوتا ہے ، اور اُن کے کوئی بھائی تھے ، جو ان کی اس حالت اور روش کو پسند نہیں کرتے تھے ، ایک دن یہ بھائی ان صاحب حیا بھائی کو اس پر ملامت اور سرزنش کر رہے تھے کہ تم اس قدر شرم و حیا کیوں کرتے ہو ، اسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں بھائیوں پر گذر ہوا ، اور آپ نے ان کی باتیں سن کر ملامت و نصیحت کرنے والے بھائی سے ارشاد فرمایا کہ اپنے ان بھائی کو ان کے حال پہ چھوڑ دو ، ان کا یہ حال تو بڑا مبارک حال ہے ، شرم و حیا تو ایمان کی ایک شاخ یا ایمان کا پھل ہے اگر اس کی وجہ سے بالفرض دنیا کے مفادات کچھ فوت بھی ہوتے ہوں ، تو آخرت کے درجے بے انتہا بڑھتے ہیں ۔