عَنْ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لَنَا فِي التَّرَهُّبِ ، فَقَالَ : « إِنَّ تَرَهُّبَ أُمَّتِي الْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ انْتِظَارَ الصَّلاةِ » (رواه فى شرح السنة)
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضرت مجھ کو رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دیجئے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی رہبانیت نماز کے انتظار میں مسجدوں میں بیٹھنا ہے ۔ (شرح السنہ)
تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہؓ میں دینوی معاملات اور دنیا کی لذتوں سے بے تعلق اور کنارہ کش ہو جانے کا جذبہ پیدا ہوتا تھا اور وہ اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض معروض کرتے تھے ۔ اس حدیث کے راوی عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ میں یہ رجحان بہت تیز تھا ، انہوں نے ایک دفعہ کئی باتیں اسی طرح کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیں ، ان میں سے آخری بات یہ تھی کہ ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دی جائے جس کے بعد ہم تارک الدنیا راہبوں والی زندگی گزاریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جو جواب دیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جن روحانی مقاصد اور اخروی منافع کے لیے پہلی امتوں میں رہبانیت تھی میری امت کو وہ چیزیں نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنے ہی پر اللہ تعالیٰ عطا فرمانے والے ہیں اور بس یہی میری امت کی رہبانیت اور درویشی ہے ۔ دراصل نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا بھی ایک طرح کا “ اعتکاف ” ہے ۔ کاش ہم اس کی قدر و قیمت جانیں ۔