عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَعَلَى الثَّانِي؟ قَالَ : " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَعَلَى الثَّانِي؟ قَالَ : " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتِهِ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ " قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ ، وَعَلَى الثَّانِي؟ قَالَ : " وَعَلَى الثَّانِي ". (رواه احمد)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے دعا رحمت کرتے ہیں پہلی صف والوں پر بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور دوسری صف کے لئے بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے دعا رحمت کرتے ہیں پہلی صف والوں پر پھر عرض کیا گیا اور دوسری صف کے لئے بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پہلی ہی بات دہرا دی ۔ یعنی فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے دعا رحمت کرتے ہیں پہلی صف کے لئے ۔ پھر آپ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور دوسری صف کے لئے بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی وہی پہلی بات دہرا دی کہ اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور فرشتے دعا رحمت کرتے ہیں پہلی صف والوں کے لئے ۔ ان لوگوں نے پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور دوسری صف کے لئے بھی ؟ تو اس چوتھی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دوسری صف والوں کے لئے بھی ۔ (مسند احمد)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور فرشتوں کی دعاء رحمت کے خصوصی مستحق اگلی صف والے ہی ہوتے ہیں ، دوسری صف والے بھی اس سعادت میں اگرچہ شریک ہیں لیکن بہت پیچھے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی اور دوسری صف میں بظاہر اور ہماری نگاہوں میں فاصلہ تو بہت ہی تھوڑا سا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان میں بہت فاصلہ ہے ، اس لئے اللہ کی رحمت کے طالب کو چاہئے کہ وہ حتی الوسع پہلی ہی صف میں جگہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ، جس کا ذریعہ یہی ہو سکتا ہے کہ مسجد میں اول وقت پہنچ جائے ۔ صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :
“ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ پہلی صف میں کھڑے ہونے کا کیا اجر و ثواب ہے ، اور اس پر کیا صلہ ملنے والا ہے تو لوگوں میں اس کے لئے ایسی مسابقت اور کشمکش ہو کہ قرعہ اندازی سے فیصلہ کرنا پڑے ” ۔
اللہ تعالیٰ ان حقیقتوں کا یقین نصیب فرمائے ۔ آمین