عَنْ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ".
(رواه احمد والترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه)
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو کوئی ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں برابر پڑھا کرے اللہ رتعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ پر حرام کر دے گا۔
تشریح
بعض شارحین نے لکھا ہے کہ ظہر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چونکہ دو ہی رکعت پڑھنا زیادہ ثابت ہے (جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، حضرت عبداللہ بن عمر اور خود حضرت ام حبیبہ (رضی اللہ عنہم) کی مندرجہ بالا حدیثوں سے معلوم ہو چکا ہے) اس لئے ظہر کے بعد موکدہ سنت تو صرف دو ہی رکعت ہے ، لہذا چار رکعت پڑھنے کی صورت یہ ہو گی کہ ان مؤکدہ دو رکعت کے علاوہ مزید دو رکعت نفل پڑھی جائیں ۔
فائدہ ........ ہمارے دیار میں ظہر کی دو سنتوں کے بعد مزید دو نفل پڑھنے کا کافی رواج ہے ، لیکن اکثر عوام ان نفلوں کو (بلکہ عام طور سے ہر وقت کے نوافل کو) بیٹھ کے پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نوافل بیٹھ کے ہی پڑھنے چاہئیں ، حالانکہ یہ سراسر غلط ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح حدیث ہے کہ بیٹھ کے نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کے پڑھنے کے مقابلے میں آدھا ملے گا ۔