عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، « أَنَّهُ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ » (رواه ابوداؤد وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عید کے دن بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو عید کی نماز مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی میں پڑھائی ۔ (سنن ابی داؤد ، سنن ابن ماجہ)
تشریح
عیدین میں “ امت مسلمہ کا تہوار ” اور “ دینی جشن ” ہونے کی جو شان ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کی قوموں کے جشنوں اور میلوں کی طرح ہمارا عیدین کی نماز والا اجتماع بھی کہیں کھلے میدان میں ہو ، اور جیسا کہ اوپر معلوم ہو چکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول و دستور بھی یہی تھا اور اس لئے عام حالات میں یہی سنت ہے ۔ لیکن حضرت ابو ہریرہؓ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر بارش کی حالت ہو (یا ایسا ہی کوئی اور سبب ہو) تو عید کی نماز بھی مسجد میں پڑھی جا سکتی ہے ۔