عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُعَوِّذُ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ " أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ وَيَقُولُ إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ " (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھ کے حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) کو اللہ کی پناہ میں دیتے تھے :
أُعِيذُ كُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ
میں تمہیں پناہ میں دیتا ہوں اللہ کے کلمات تامہ کی ہر شیطان کے شر سے اور ہر زہریلے جانور سے اور اثر ڈٖالنے والی آنکھ سے ۔
اور فرماتے تھے کہ : تمہارے جد امجد ابراہیم اپنے دونوں صاحبزادوں اسماعیل اور اسحٰق پر ان کلمات سے دم کرتے تھے ۔
تشریح
“ كَلِمَاتٍ تَامَّة ” سے مراد یا تو اللہ کے احکام ہیں یا اس کی نازل کی ہوئی کتابیں ہیں بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) پر بطور تعویذ اور دم کے یہ دعا پڑھا کرتے تھے اور اس طرح ان کے لئے اللہ سے پناہ اور حفاظت مانگتے تھے ۔