عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خود بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم فرمایا کرتے تھے اور خود اپنا دست مبارک اپنے جسم پر پھیرتے ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بیماری لاحق ہوئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو میں وہی معوذات پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دم کرتی جن کو پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دم کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرتی ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں “ مُعَوِّذَاتِ ” سے مراد بظاہر سورہ “ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ” اور “ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ” ہیں ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دعائیں مراد ہوں جن میں اللہ سے پناہ طلب کی جاتی ہے ، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیماروں پر پڑھ کر اکثر دم کیا کرتے تھے ۔ اس طرح بعض دعائیں اوپر بعض حدیثوں میں بھی آ چکی ہیں اور باقی ان شاء اللہ اپنے موقع پر “ کتاب الدعوات ” میں مذکور ہوں گی ۔