hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 19871

813. حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات

مسند احمد

19871
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ أَبُو يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ قُلْنَا مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ وَقَالَ تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَزْنِينَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ وَلَا تَعْصِينَهُ فِي مَعْرُوفٍ قُلْنَا نَعَمْ فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ وَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ الْعُتَّقَ وَالْحُيَّضَ وَنَهَى عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا وَسَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِهِ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَتْ نُهِينَا عَنْ النِّيَاحَةِ
حضرت ام عطیہ (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے خواتین انصار کو ایک گھر میں جمع فرمایا پھر حضرت عمر کو ان کی طرف بھیجا وہ آکر اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور سلام کیا خواتین نے جواب دیا حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف نبی ﷺ کا قاصد بن کر آیاہوں ہم نے کہا نبی ﷺ اور اس کے قاصد کو خوش آمدید انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر بیعت کرتی ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤگی بدکاری نہیں کروگی اپنے بچوں کو جان سے نہیں ماروگی کوئی بہتان نہیں گھڑوگی اور کسی نیکی کے کام میں نبی ﷺ کی نافرمانی نہیں کروگی ہم نے اقرار کرلیا اور گھر کے اندر سے ہاتھ بڑھا دیئے حضرت عمر نے باہر سے ہاتھ بڑھایا اور کہنے لگے کہ اے اللہ تو گواہ رہ نبی ﷺ نے یہ حکم بھی دیا کہ عیدین میں کنواری اور ایام والی عورتیں بھی نماز کے لئے نکلا کریں اور جنازے کے ساتھ جانے سے ہمیں منع فرمایا اور یہ کہ ہم پر جمعہ فرض نہیں ہے کسی خاتون نے حضرت ام عطیہ (رض) سے ولایعصینک فی معروف کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں ہمیں نوحہ سے منع کیا گیا ہے۔