hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

813. حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات

مسند احمد

19876
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ
حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ قیامت کے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔
19877
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٍ قَصِيرٍ فِي إِزَارِهِ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ فَكَلَّمَهُ وَمَا أَدْرِي مَا يُكَلِّمُهُ وَأَنَا بَعِيدٌ مِنْهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَوْمٌ فَقَالَ اذْهَبُوا بِهِ ثُمَّ قَالَ رُدُّوهُ فَكَلَّمَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا وَأَنَا أَسْمَعُهُ قَالَ فَقَالَ أَكُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ مِنْ اللَّبَنِ وَاللَّهِ لَا أَقْدِرُ عَلَى أَحَدِهِمْ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ
حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں حضرت ماعز بن مالک جو پستہ قد آدمی تھے کو ایک تہبند میں پیش کیا گیا ان کے جسم پر تہنبد کے علاوہ کوئی چادر نہ تھی نبی ﷺ ایک تکیہ پر بائیں جانب ٹیک لگائے بیٹھے تھے نبی ﷺ نے ان سے کچھ باتیں جن کے متعقل مجھے کچھ معلوم نہیں کہ وہ کیا باتیں تھیں کیونکہ میرے اور نبی ﷺ کے درمیان قوم حائل تھی تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے لے جاؤ کچھ وقفے کے بعد فرمایا کہ اسے واپس لے آؤ اس وقت جو نبی ﷺ نے ان سے باتیں کہی وہ میں نے سنی پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے لے جاؤ اسے رجم کردو۔ پھر نبی ﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے وہ بھی سنا ہماری کوئی بھی جماعت اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلتی ہے تو ان میں سے جو شخص پیچھے رہ جاتا ہے اس کی آواز بکرے جیسے ہوتی ہے اور جو کسی کو تھوڑا سا دودھ دے دے واللہ اس پر جس کو بھی قدرت ملی اسے سزا ضرور دوں گا۔
19878
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي سِمَاكٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا مؤذن جب اذان دیتا ہے تو کچھ دیر رک جاتا اور اس وقت اقامت نہ کہتا جب تک نبی ﷺ کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتا تو جب وہ دیکھتا کہ نبی ﷺ باہر نکل آئے تو وہ اقامت شروع کردیتا۔
19879
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ يَخْرُجُ كَذَّابُونَ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ ثُمَّ تَخْرُجُ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَ الْأَبْيَضِ كِسْرَى وَآلِ كِسْرَى وَإِذَا أَعْطَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِهِ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ
عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے نبی ﷺ کی کوئی حدیث پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ دین اس وقت تک قائم رہے گا جب تک قریش کے بارہ خلیفہ نہ ہوجائیں۔ پھر قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔ پھر مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کوئی خیر عطا فرمادیں تو اسے چاہیے کہ اپنی ذات اور اپنے اہل خانہ سے اس کا آغاز کرے۔ ۔ اور میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔
19880
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِأَيْدِينَا يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ أَلَا يَسْكُنُ أَحَدُكُمْ وَيُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى صَاحِبِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم دائیں بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو کیا تم سکون سے نہیں رہ سکتے کہ ران پر ہاتھ رکھے ہوئے ہی اشارہ کرلو اور دائیں بائیں جانب اپنے ساتھی کو سلام کردو۔
19881
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ وَسُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي رَأْسِهِ شَعَرَاتٌ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ تَتَبَيَّنْ وَإِذَا لَمْ يَدْهُنْهُ تَتَبَيَّنُ
حضرت جابر (رض) سے کسی نے نبی ﷺ کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے سر میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی اور جب تیل نہ لگاتے تو ان کی سفیدی واضح ہوجاتی۔
19882
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَنَحْوَهَا وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز ظہر میں سورت اعلی جیسی سورتیں پڑھتے تھے اور نماز فجر میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔
19883
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر کو عشرہ اخیر میں تلاش کیا کرو۔
19884
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ فَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ قَلِيلَ الضَّحِكِ وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ عِنْدَهُ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِهِمْ فَيَضْحَكُونَ وَرُبَّمَا تَبَسَّمَ
سماعت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے پوچھا کیا آپ نبی ﷺ کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں۔ نبی ﷺ زیادہ وقت خاموش رہتے اور کم ہنستے تھے۔ البتہ نبی ﷺ کی موجودگی میں صحابہ اشعار بھی کہہ دیا کرتے تھے اور اپنے معاملات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے اور نبی ﷺ تبسم بھی فرماتے تھے۔
19885
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ وَمُؤَمَّلٌ الْمَعْنَى وَهَذَا لَفْظُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ قَالَ لَا قَالَ فَأُصَلِّي فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأُصَلِّي فِي أَعْطَانِهَا قَالَ لَا
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کرو نبی ﷺ نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے بارے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کرو نبی ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔