hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 1

.

موطأ الامام محمد

1
Muawtta Imam Muhammad
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ , أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «أَنَا أُخْبِرُكَ، صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ، وَالْعَصْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثلَيْكَ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ثُلُثِ اللَّيْلِ، فَإِنْ نِمْتَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ فَلا نَامَتْ عَيْنَاكَ، وَصَلِّ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي وَقْتِ الْعَصْرِ، وَكَانَ يَرَى الإِسْفَارَ فِي الْفَجْرِ، وَأَمَّا فِي قَوْلِنَا، فَإِنَّا نَقُولُ: إِذَا زَادَ الظِّلُّ عَلَى الْمِثْلِ فَصَارَ مِثْلَ الشَّيْءِ وَزِيَادَةً مِنْ حِينِ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ دَخَلَ وَقْتُ الْعَصْرِ. وَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَإِنَّهُ قَالَ: لا يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ حَتَّى يَصِيرَ الظِّلُّ مِثلَيْهِ
امام محمد (رح) نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن رافع (جو ام المؤمنین ام سلمہ (رض) عنہا کے غلام ہیں) سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے نماز کے وقت کے سلسلہ میں سوال کیا تو ابوہریرہ (رض) نے فرمایا میں تمہیں نماز کا وقت بتلاتا ہوں۔ جب تیرا سایہ تیرے برابر ہوجائے تو ظہر کی نماز پڑھ لو۔ جب تمہارا سایہ تم سے دو مثل ہوجائے تو عصر کی نماز ادا کرلو۔ اور جب سورج غروب ہوجائے تو مغرب کی نماز ادا کرلو۔ اور عشاء کی نماز تہائی رات آنے پر ادا کرو اور اگر تو آدھی رات تک سو گیا اللہ کرے تیری آنکھ نہ سوئے (عشاء کی نماز سے پہلے سوجانے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا گیا ہے) اور صبح کی نماز منہ اندھیرے میں پڑھو۔
امام محمد کا ارشاد : وقت عصر کے سلسلہ میں امام ابوحنیفہ کا مسلک اوپر کی روایت کے مطابق مثلین میں ہے۔ البتہ نماز فجر وہ اسفار (صبح کے سپیدے) میں پڑھنے کے قائل ہیں۔ مگر ہمارے ہاں (محمد و ابویوسف) جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل سے بڑھ جائے اور وہ اضافہ فی الزوال کے علاوہ ہو۔ تو عصر کا وقت شروع ہوگیا۔ مگر ابوحنیفہ (رح) دو مثل سے پہلے وقت عصر کے داخل ہونے کے قائل نہیں ہیں۔