أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَغِبَتْ هَذِهِ الأُمَّةُ عَنْهُ، مِنْ هَذِهِ الآيَةِ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا} [الحجرات: 9]
محمد بن ابوبکر بن عمرو بن حزم نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے عائشہ صدیقہ (رض) عنہا کا یہ ارشاد نقل کیا ہی کہ میں نے نہیں دیکھا کہ اس امت کے افراد نے اس آیت سے زیادہ کسی اور آیت سے اتنی روگردانی کی ہو جتنی اس آیت سے اختیار کی و ان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینہما۔ کہ اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں باہمی لڑ پڑیں تو ان کے ما بین صلح کرادو۔ پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر سرککشی کرے تو سرکشی کرنے والی جماعت سے جنگ کرو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں۔ اگر وہ لوٹ آئیں تو ان کے درمیان انصاف سے صلح کرادو۔