أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى وَحْدَهُ يَقْرَأُ فِي الأَرْبَعِ جَمِيعًا مِنَ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَكَانَ أَحْيَانًا يَقْرَأُ بِالسُّورَتَيْنِ، أَوِ الثَّلاثِ فِي صَلاةِ الْفَرِيضَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْوَاحِدَةِ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ، كَذَلِكَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَسُورَةٍ سُورَةٍ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: السُّنَّةُ أَنْ تَقْرَأَ فِي الْفَرِيضَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَإِنْ لَمْ تَقْرَأْ فِيهِمَا أَجْزَأَكَ، وَإِنْ سَبَّحْتَ فِيهِمَا أَجْزَأَكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع (رح) کہتے ہیں جب عبداللہ بن عمر (رض) تنہا نماز پڑھتے تو ظہر اور عصر کی تمام رکعات میں سورة فاتحہ اور قرآن مجید یک کوئی سی سورت پڑھتے تھے اور کبھی دو یا تین سورتیں فرض نماز کی ایک ررکعت میں پڑھتے اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھتے۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ فرئض کی پہلی دو رکعات میں سورة فاتحہ اور کوئی سورت پر ہے اور آخری کی دو رکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھے اور ان میں کچھ بھی نہ پڑھے۔ یا سبحان اللہ ، سبحان اللہ ہی کہہ دے تو بھی جائز ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔