أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: آمِينَ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، يَنْبَغِي إِذَا فَرَغَ الإِمَامُ مِنْ أُمِّ الْكِتَابِ أَنْ يُؤَمِّنَ الإِمَامُ، وَيُؤَمِّنَ مَنْ خَلْفَهُ، وَلا يَجْهَرُونَ بِذَلِكَ، فَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ، فَقَالَ: يُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ، وَلا يُؤَمِّنُ الإِمَامُ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن (رح) نے ابوہریرہ (رض) سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ شان یہ ہے کہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین ہوگئی اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے گئے۔ امام مالک کہتے ہیں کہ ابن شہاب زہری (رح) نے یہ بھی بتلایا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آمین کہتے تھے۔ (اس روایت کو مؤطا امام التامین خلف الامام میں درج کیا گیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اسی کو عمل کے لیے اختیار کرتے ہیں مناسب یہ ہے کہ جب امام، فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوجائے تو امام اور مقتدی دونوں آمین کہیں۔ مگر آمین آہستہ کہیں مگر امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ امام آمین نہ کہے صرف مقتدی آمین کہیں۔