أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ النِّسْيَانِ، قَالَ: «يَتَوَخَّى أَحَدُكُمُ الَّذِي يَظُنُّ أَنَّهُ نَسِيَ مِنْ صَلاتِهِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا نَاءَ لِلْقِيَامِ وَتَغَيَّرَتْ حَالُهُ عَنِ الْقُعُودِ وَجَبَ عَلَيْهِ لِذَلِكَ سَجْدَتَا السَّهْوِ.
وَكُلُّ سَهْوٍ وَجَبَتْ فِيهِ سَجْدَتَانِ مِنْ زِيَادَةٍ، أَوْ نُقْصَانِ فَسَجْدَتَا السَّهْوِ فِيهِ بَعْدُ التَّسْلِيمِ.
وَمَنْ أَدْخَلَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ الشَّكَّ فِي صَلاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ مَا لَقِيَ تَكَلَّمَ وَاسْتَقْبَلَ صَلاتَهُ، وَإِنْ كَانَ يُبْتَلَى بِذَلِكَ كَثِيرًا مَضَى عَلَى أَكْثَرِ ظَنِّهِ وَرَأْيِهِ وَلَمْ يَمْضِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِنَّهُ إِنْ فَعَلَ ذَلِكَ لَمْ يَنْجُ فِيمَا يَرَى مِنَ السَّهْوِ الَّذِي يُدْخِلُ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ، وَفِي ذَلِكَ آثَارٌ كَثِيرَةٌ
نافع (رح) نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر (رض) سے جب نماز میں بھول جانے کے متعلق دریافت کا ا گیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا۔ (کہ جس کو یہ حالت پیش آئے) وہ کسی گمان کو پختہ اور غالب کرلے کہ اس کی نماز میں کتنی بھول ہوئی ہے پھر اسے (گمان غالب کے مطابق) ادا کرے۔ مؤطا امام مالک میں فلیصلہ کے لفظ زائد ہیں۔ ( یہ دونوں اثر مؤطا امام مالک میں سابقہ باب کے حوالہ میں مذکور ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے ہمارا عمل پر ہے کہ نمبر ١ جب قیام کے لیے کھڑا ہوجائے اور قعود کی حالت بدل جائے تو اس پر سہو کے دو سجدے لازم ہیں اور نمبر ٢ ہر بھول کے لیے خواہ وہ کمی کی صورت میں ہو یا اضافہ کی صورت میں سلام کے بعد دو سجدے ہی لازم ہوں گے۔ نمبر ٣ جس آدمی کو شیطان اس کی نماز میں شک ڈال دے اور اسے معلوم نہ رہے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار پڑھی ہیں۔ دیکھا جائے گا کہ اگر یہ شک اسے بار اول پیش آیا تو وہ نماز کو توڑ ڈالے اور از سر نو نماز پڑھے اور اگر نمبر ٥ یہ شک اسے اکثر پیش آتارہتا ہے تو وہ اپنے غالب گمان پر عمل پیرا ہو۔ اگر یقین نہ تو زیادہ تفتیش میں نہ پڑے اگر وہ تفتیش کے پیچھے پڑا تب بہی وہ شیطان کے خللانداز ہونے کی وجہ سے نجات نہیں پاسکتا۔ (پس غالب گمان بر اکتفاء کرے) اس سلسلہ میں بہت سے آثار مؤید ہیں۔ بطور نمونہ ایک ذکر کیے دیتے ہیں۔