أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالأَرْضِ فَلْيَضَعْ كَفَّيْهِ، ثُمَّ إِذَا رَفَعَ جَبْهَتَهُ فَلْيَرْفَعْ كَفَّيْهِ، فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ إِذَا وَضَعَ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا، أَنْ يَضَعَ كَفَّيْهِ بِحَذَاءِ أُذُنَيْهِ، وَيَجْمَعَ أَصَابِعَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ، وَلا يَفْتَحْهَا، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، رَفَعَهُمَا مَعَ ذَلِكَ، فَأَمَّا مَنْ أَصَابَهُ بَرْدٌ يُؤْذِي، وَجَعَلَ يَدَيْهِ عَلَى الأَرْضِ مِنْ تَحْتِ كِسَاءٍ أَوْ ثَوْبٍ، فَلا بَأْسَ بِذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع نے ابن عمر (رض) کے متعلق بیان کیا کہ وہ فرماتے تھے۔ جو شخص سجدے کے لیے اپنی پیشانی زمین پر رکھے وہ اپنی دونوں ہاتھ بھی رکھے۔ پھر جب اپنی پیشانی سجد سے اٹھنے کے لیے اٹھائے تو اس کے معا بعد اپنے ہاتھ اٹھائے کیونکہ چھرہ کے سجدہ کرنے کی طرح ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۔
قول محمد رحمہ للہ یہ ہے اسی پر عمل ہے کہ جب کوئی شخص سجدہ کے لیے اپنا سرزمین پر رکھے تو وہ اپنے ہاتھ سجد میں کانوں کے برابر رکھے اور اپنی انگلیوں کو ملاکر قبلہ رخ رکھے۔ ان کو کھولے نہیں، پھر جب اپنا سر اٹھائے تو ہاتھ اس کے متصل ہی اٹھائے۔ جس شخص کو سردی نقصان دیت ہو اور وہ اپنی چادر یا کپڑے کے اندر سے اپنے ہاتھ زمین پر رکھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔