أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: «إِذَا سُلِّمَ عَلَى أَحَدِكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلا يَتَكَلَّمْ وَلْيُشِرْ بِيَدِهِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي لِلْمُصَلِّي أَنْ يَرُدَّ السَّلامَ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ، فَإِنْ فَعَلَ فَسَدَتْ صَلاتُهُ، وَلا يَنْبَغِي أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کا ایک آدمی کے پاس سے گزر ہوا جو نماز میں مصروف تھا۔ ابن عمر (رض) نے اسے سلام کیا۔ اس نے ( نماز ہی میں) آپ کے سلام کا ا جواب دیا۔ ابن عمر ر ضی اللہ عنہما اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز میں مصروف ہو اور اسے کوئی سلام دے تو وہ ہرگز زبان سے بول کر اس کے سلام کا جواب نہ دے۔ البتہ اپنے ہاتھ سے سلام کا اشارہ کردے۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ نمازی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ نماز میں سلام کا اجواب دے۔ اگر وہ اس طرح کرے گا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ باہر والے شخص کو مناسب نہیں کہ وہ نمازی کو نماز میں سلام دے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یی قول ہے۔