hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 198

.

موطأ الامام محمد

198
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، " أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْمُسَافِرِ إِذَا كَانَ لا يَدْرِي مَتَى يَخْرُجُ يَقُولُ: أَخْرُجُ الْيَومَ، بَلْ أَخْرُجُ غَدًا، بَلِ السَّاعَةَ، فَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْهِ لَيَالٍ كَثِيرَةٌ أَيَقْصُرُ، أَمْ مَا يَصْنَعُ؟ قَالَ: يَقْصُرُ وَإِنْ تَمَادَى بِهِ ذَلِكَ شَهْرًا ". قَالَ مُحَمَّدٌ: نَرَى قَصْرَ الصَّلاةِ إِذَا دَخَلَ الْمُسَافِرُ مِصْرًا مِنَ الأَمْصَارِ، وَإِنْ عَزَمَ عَلَى الْمُقَامِ، إِلا أَنْ يَعْزِمَ عَلَى الْمُقَامِ خَمْسَةَ عَشْرَ يَوْمًا فَصَاعِدًا، فَإِذَا عَزَمَ عَلَى ذَلِكَ أَتَمَّ الصَّلاةَ.
ہشام کہتے ہیں میں نے سالم بن عبداللہ سے اس مسافر کا حکم دریافت کیا جس کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کب سفر پر چل دے گا اور اس طرح ارادہ کرتا ہے آج نکلوں گا بلکہ ایک گھنٹہ کے بعد نکلوں گا۔ وہ اس طرح کرتا رہے یہاں تک کہ اس پر کئی راتیں گزرجائیں، کیا وہ قصر کرے گا یا کیا کرے گا سالم کہنے لگے وہ قصر کرے خواہ یہ مدت ایک مہینہ ہوجائے۔
قول محمد (رح) یہ ہے ہمارے ہاں جب مسافر کسی شہر میں داخل ہو اگر وہ اقامت کا پختہ ارادہ کرے اور وہ ارادہ کم از کم پندرہ دن یا سا سے زیادہ کا ہو تو وہ نماز کو مکمل کرے گا ورنہ وہ مسافر ہی رہے گا۔