أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، أَخْبَرَهُ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ «يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ فِي سَفَرٍ إِلَى تَبُوكَ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ.
وَالْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ أَنْ تُؤَخَّرَ الأُولَى مِنْهُمَا، فَتُصَلَّى فِي آخِرِ وَقْتِهَا، وَتُعَجَّلَ الثَّانِيَةُ، فَتُصَلَّى فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا.
وَقَدْ بَلَغَنَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ أَخَّرَ الصَّلاةَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، خِلافَ مَا رَوَى مَالِكٌ
عبد الرحمن بن ہرمز (رح) کہتے ہیں کہ رسول اللہ سفر تبوک میں ظہر و عصر کو جمع فرماتے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ دو نمازوں کو جمع کرنا اس طرح ہے کہ پہلی کو مؤخر کر کے آخری وقت میں ادا کریں اور دوسری کو اول وقت میں نجلد پڑھ لیا جائے۔ ہمیں ابن عمر (رض) کا یہ عمل پہنچا ہے کہ انھوں نے مغرب کی نماز اس وقت غروب شفق سے کچھ پہلے تک مؤخر کی۔ (اس اثر کو طحاوی نے بھی نقل کیا ہے) اس کے خلاف جو امام مالک نے روایت کی ہے)