أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَمْ يُصَلِّ مَعَ صَلاةِ الْفَرِيضَةِ فِي السَّفَرِ التَّطَوُّعَ قَبْلَهَا، وَلا بَعْدَهَا إِلا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي نَازِلا عَلَى الأَرْضِ، وَعَلَى بَعِيرِهِ أَيْنَمَا تَوَجَّهَ بِهِ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: لا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمُسَافِرُ عَلَى دَابَّتِهِ تَطَوُّعًا إِيمَاءً حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ، فَأَمَّا الْوِتْرُ، وَالْمَكْتُوبَةُ فَإِنَّهُمَا تُصَلَّيَانِ عَلَى الأَرْضِ، وَبِذَلِكَ جَاءَتِ الآثَارُ
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سفر میں فرائض سے بعد اور پہلے کوئی نفل نماز نہ پڑھتے تھے۔ ہاں نماز تہجد زمین پر اتر کر ادا فرماتے اور بسا اوقات سواری پر ادا کرلیتے خواہ وہ جس طرف کو جا رہی ہوتی۔ (اس اثر کو امام مالک (رح) نے مؤطا میں باب صلوۃ النافلۃ فی السفر بالنہار واللیل میں ذکر فرمایا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے اشارہ کے ساتھ مسافر اگر اپنی سواری پر نفل نماز ادا کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے جانور کا رخ جدھر بہی ہو۔ رکوع کے اشارہ سے سجدے کا اشارہ ذرا جھکا اہو ہونا چاہیے۔ وتر اور فرائض زمین پر پر ہے جائیں گے۔ اس کی تائید بہت سے آثار سے ہوتی ہے جو مذکور ہیں۔